السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2223. -- باب: الأجناس التي ورد النص بجريان الربا فيها
-- باب: ان اجناس کا بیان جن میں سود جاری ہونے کے متعلق نص (دلیل) وارد ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 10478
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَامَ: فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُيُوعًا مَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ وَإِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يَصْلُحُ نَسَاءً، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدًّا بِمُدٍّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدًّا بِمُدٍّ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يَصْلُحُ نَسِيئَةً، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، حَتَّى عَدَّ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ⦗٤٥٥⦘ قَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ عُبَادَةُ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا أَحَدَ نُقَبَاءِ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا يَخَافَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، كَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَرَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(١٠٤٧٨) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ اے لوگو! تم ایسی بیوع کا تذکرہ کرتے ہو کہ میں ان کے متعلق نہیں جانتا۔ سونا سونے کے عوض اس کی ڈلی اور جنس وزن میں برابر دست بدست نقد خریدو فروخت اور چاندی چاندی کے عوض اس کی ڈلی اور اصل نقد دست بدست خریدو فروخت کرو اور سونا چاندی کے بدلے اور چاندی کا وزن سونے سے زیادہ ہو نقد دست بدست خریدو فروخت میں کوئی حرج نہیں ہے اور ادھار درست نہیں ہے۔ گندم گندم کے عوض مد مد کے بدلے دست بدست نقد خریدو فروخت اور جَو جَو کے عوض ایک مَد مَد کے عوض نقد دست بدست خریدو فروخت کرو اور جو کو گندم کے عوض فروخت کرنا اور جو وزن میں زیادہ ہو نقد دست بدست خریدو فروخت کرو۔ لیکن ادھار درست نہیں ہے اور کھجور کھجور کے عوض یہاں تک نمک نمک کے بدلے تک شمار کیا برابر برابر، نقد دست بدست خریدو فروخت اور کاروبار کیا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ بدری تھے اور انصار کے سرداروں میں سے تھے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی کہ وہ اللہ کے بارے میں کمی سے خوف نہ کھائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10478]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10478 in Urdu