السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2224. -- باب: تحريم التفاضل في الجنس الواحد مما يجري فيه الربا مع تحريم النساء استدلالا بما مضى
-- باب: جن اشیاء میں سود جاری ہوتا ہے، ان میں سے ایک ہی جنس کی چیزوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی حرمت اور ادھار کی حرمت کا بیان، گزشتہ (احادیث) سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10490
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو مُسْلِمٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا عَبْدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الصَّرْفِ وَلَمْ يَسْمَعْ فِيهِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا تَبَايَعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ" - قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: وَمَا الرَّمَاءَ؟ قَالَ: الرِّبَا -، قَالَ: فَحَدَّثَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدِيثًا، قَالَ نَافِعٌ: فَأَخَذَ بِيَدِ الْأَنْصَارِيِّ وَأَنَا مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ هَذَا حَدَّثَ عَنْكَ حَدِيثَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: مَا هُوَ فَذَكَرَهُ، قَالَ: نَعَمْ سَمِعَ أُذُنَايَ وَبَصُرَ عَيْنِي، قَالَهَا ثَلَاثًا، فَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ حِيَالَ عَيْنَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" لَا تَبَايَعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَبَايَعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ دُونَ قَوْلِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سونے کی بیع کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، اور انہوں نے اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا تھا، کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، ماسوائے برابر برابر اور تم ایک دوسرے پر کمی بیشی نہ کرو، مجھے تمہارے اوپر سود کا ڈر ہے، راوی کہتے ہیں: ایک انصاری نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرمائی۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انصاری کا ہاتھ پکڑ لیا اور میں ان دونوں کے ساتھ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: اے ابو سعید! اس نے آپ سے (فلاں فلاں) حدیث بیان کی ہے وہ کیا ہے؟ اس نے ذکر کیا تو سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہاں، میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا، اس بات کو انہوں نے تین مرتبہ دہرایا۔ انہوں نے اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے برابر اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے عوض تم فروخت نہ کرو سوائے برابر برابر، اور کوئی چیز تم نقد کے بدلے ادھار میں فروخت نہ کرو اور نہ ہی تم ایک دوسرے پر کمی بیشی کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10490]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1584»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10490 in Urdu