السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2224. -- باب: تحريم التفاضل في الجنس الواحد مما يجري فيه الربا مع تحريم النساء استدلالا بما مضى
-- باب: جن اشیاء میں سود جاری ہوتا ہے، ان میں سے ایک ہی جنس کی چیزوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی حرمت اور ادھار کی حرمت کا بیان، گزشتہ (احادیث) سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10491
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا ⦗٤٥٩⦘ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَ صَائِغٌ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ، ثُمَّ أَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ فِي ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي، فَنَهَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ ذَلِكَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ يَرُدُّ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَابْنُ عُمَرَ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ إِلَى دَابَّةٍ يَرْكَبُهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ" وَفِي رِوَايَةِ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ، ثُمَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
(١٠٤٩١) مجاہد فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ ایک سنار آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سونے کو خالص بناتا ہوں، ملاوٹ سے صاف کرتا ہوں، پھر میں اس کو فروخت کرتا ہوں کسی چیز کے عوض جو وزن میں اس سے زائد ہوتی ہے، تو میں اپنی مزدوری کے عوض کچھ زائد وصول کرتا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کردیا تو سنار اپنی بات بار بار دہرا رہا تھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کو منع فرما رہے تھے، یہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے پر آکر اپنے چوپائے پر سوار ہوگئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے ان کے درمیان تفاضل نہیں ہے (زیادتی یا کمی نہیں) یہ ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عہد لیا تھا اور ہمارا عہد تم سے یہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10491]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1300»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10491 in Urdu