السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2224. -- باب: تحريم التفاضل في الجنس الواحد مما يجري فيه الربا مع تحريم النساء استدلالا بما مضى
-- باب: جن اشیاء میں سود جاری ہوتا ہے، ان میں سے ایک ہی جنس کی چیزوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی حرمت اور ادھار کی حرمت کا بیان، گزشتہ (احادیث) سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10493
وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ عَنْهُ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ الصَّائِغِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ وَرْدَانَ الرُّومِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أَصُوغُ الْحُلِيَّ، ثُمَّ أَبِيعُهُ وَأَسْتَفْضِلُ فِيهِ قَدْرَ أُجْرَتِي، أَوْ عَمَلِ يَدِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ صَاحِبِنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي بِصَاحِبِنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَرْمَوِيُّ، أنا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلَامَةَ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ.
(١٠٤٩٣) وردان رومی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میں زیورات بناتا ہوں۔ پھر میں اس کو فروخت کرتا ہوں اور اپنی مزدوری یا ہاتھ کا کام اس کی بنا پر کچھ زیادہ لیتا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، اس میں تفاضل نہیں، یہ عہد ہم سے ہمارے صاحب نے لیا اور یہی ہمارا تمہاری طرف عہد ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صاحب سے مراد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10493]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10493 in Urdu