السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2224. -- باب: تحريم التفاضل في الجنس الواحد مما يجري فيه الربا مع تحريم النساء استدلالا بما مضى
-- باب: جن اشیاء میں سود جاری ہوتا ہے، ان میں سے ایک ہی جنس کی چیزوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی حرمت اور ادھار کی حرمت کا بیان، گزشتہ (احادیث) سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10494
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ مِنْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ"، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:" مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا"، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ؟ أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ، لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا"، ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنْ لَا يَبِيعَ ذَلِكَ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ فِي هَذَا قَدُومَ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ، وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ.
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زائد میں فروخت کیا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ”آپ اس جیسے سے منع فرماتے تھے ماسوائے برابر، برابر“، معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: کون میرا عذر پیش کرے معاویہ کو کہ میں اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دے رہا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سے خبر دے رہے ہیں، میں اس سر زمین میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا جس میں تم ہو۔ پھر ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے یہ تذکرہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ اس کو فروخت نہ کریں مگر برابر وزن کے ساتھ، لیکن ربیع نے امام شافعی رحمہ اللہ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10494]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه المالك 1302»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10494 in Urdu