السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2228. -- باب: التقابض في المجلس في الصرف، وما في معناه من بيع الطعام بعضه ببعض
-- باب: بیعِ صرف (کرنسی کے تبادلے) میں اسی مجلس میں قبضہ کرنے، اور اسی کے ہم معنی کھانے پینے کی اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع کا بیان۔
حدیث نمبر: 10508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثٌ، وَأنا أَبُو بَكْرٍ، أنا الْفِرْيَابِيُّ، وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ⦗٤٦٥⦘ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ؟، فَقَالَ طَلْحَةُ: أَرِنَا الذَّهَبَ حَتَّى يَأْتِيَ الْخَازِنُ، ثُمَّ تَعَالَ فَخُذْ وَرِقَكَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، أَوْ لَتَنْقُدَنَّهُ وَرِقَهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" وَقَالَ قُتَيْبَةُ: فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
(١٠٥٠٨) مالک بن اوس فرماتے ہیں کہ میں نے متوجہ ہو کر کہا: کون درہم خریدے گا، طلحہ کہنے لگے: سونا ہمیں دکھاؤ یہاں تک کہ ہمارا خزانچی آجائے۔ پھر آکر اپنی چاندی لے لینا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم! البتہ تو ضرور لوٹا اس کا سونالوٹا یا اس کی چاندی اس کے حوالے کر۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ سونا چاندی کے بدلے فروخت کرنا سود ہے، گندم گندم کے بدلے فروخت کرنا سود ہے۔ جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے ماسوائے نقد لین دین کے۔ قتیہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، فرماتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10508]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2062»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10508 in Urdu