🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2231. -- باب: من قال بجريان الربا في كل ما يكال ويوزن
-- باب: اس شخص کا قول جس نے ہر اس چیز میں سود کے جاری ہونے کا کہا جسے ناپا یا تولا جاتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10519
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعَدَوِيُّ أَبُو زُهَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو مِجْلَزٍ وَأَنَا شَاهِدٌ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ حَتَّى لَقِيَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَا تَتَّقِي اللهَ؟، حَتَّى مَتَى تُؤَكِّلُ النَّاسَ الرِّبَا؟ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدَ زَوْجَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ:" إِنِّي أَشْتَهِي تَمْرَ عَجْوَةٍ" وَإِنَّهَا بَعَثَتْ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِيقٍ إِلَى مَنْزِلِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَتْ بَدَلَهُمَا بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَةٍ، فَقَدَّمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَهُ فَتَنَاوَلَ تَمْرَةً ثُمَّ أَمْسَكَ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟" قَالَتْ: بَعَثْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِيقٍ إِلَى مَنْزِلِ فُلَانٍ فَأَتَيْنَا بَدَلَهُمَا مِنْ هَذَا الصَّاعِ الْوَاحِدِ فَأَلْقَى التَّمْرَةَ مِنْ يَدِهِ وَقَالَ:" رُدُّوهُ رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ يَدًا بِيَدٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، فَمَنْ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَرْبَى وَكُلُّ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَكَّرْتَنِي يَا أَبَا سَعِيدٍ أَمْرًا أُنْسِيتُهُ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، وَكَانَ يَنْهَى بَعْدَ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صرف میں تفاضل کے قائل تھے، وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے تھے، جب وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملے تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابن عباس! کیا آپ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ کب تک آپ لوگوں کو سود کھلاؤ گے؟ کیا آپ کو یہ خبر نہیں ملی کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عجوہ کھجور کھانے کو میرا دل چاہتا ہے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پرانی کھجوروں کے دو صاع ایک انصاری کے گھر بھیج دیے اور اس کے عوض ایک صاع عجوہ کھجور کا ان کو مل گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بڑی پسند آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور پکڑی، پھر رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں یہ کہاں سے ملی ہیں؟“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے دو صاع پرانی کھجوریں فلاں کے ہاں بھیجی تھیں تو اس کے بدلے یہ ایک صاع آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے کھجور ڈال دی اور فرمایا: ”تم اس کو واپس کر دو، تم اس کو واپس کر دو، مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے، کھجور کے بدلے کھجور، گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جَو، سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی، برابر برابر اور نقد ہونا چاہیے، اس میں کمی یا زیادتی درست نہیں ہے، جس نے زیادہ یا کمی کی اس نے سود حاصل کیا، ہر وہ چیز جس کا وزن کیا جائے یا ماپی جائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے ابوسعید! آپ نے مجھے ایسا معاملہ یاد کروا دیا جو میں بھول گیا تھا، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10519]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 2/ 49»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10519 in Urdu