السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2231. -- باب: من قال بجريان الربا في كل ما يكال ويوزن
-- باب: اس شخص کا قول جس نے ہر اس چیز میں سود کے جاری ہونے کا کہا جسے ناپا یا تولا جاتا ہو۔
حدیث نمبر: 10518
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟" قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا نَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ، أَوْ تَبِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ دُونَ قَوْلِهِ وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ.
(١٠٥١٨) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہ دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عدی انصار قبیلہ کے ایک شخص کو خیبر پر عامل بنایا، وہ عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا خیبر کی تمام کھجوریں اس طرح کی ہیں۔ اس نے کہا: نہیں اللہ کے رسول! ہم ایک صاع دو صاعوں کے عوض لیتے ہیں ملی جلی کھجوروں سے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کیا کرو۔ لیکن برابر، برابریا تم اس کو فروخت کر کے ان کی قیمت سے یہ خرید لیا کرو۔ اس طرح وزن ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10518]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6918»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10519
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعَدَوِيُّ أَبُو زُهَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو مِجْلَزٍ وَأَنَا شَاهِدٌ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ حَتَّى لَقِيَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَا تَتَّقِي اللهَ؟، حَتَّى مَتَى تُؤَكِّلُ النَّاسَ الرِّبَا؟ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدَ زَوْجَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ:" إِنِّي أَشْتَهِي تَمْرَ عَجْوَةٍ" وَإِنَّهَا بَعَثَتْ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِيقٍ إِلَى مَنْزِلِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَتْ بَدَلَهُمَا بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَةٍ، فَقَدَّمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَهُ فَتَنَاوَلَ تَمْرَةً ثُمَّ أَمْسَكَ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟" قَالَتْ: بَعَثْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِيقٍ إِلَى مَنْزِلِ فُلَانٍ فَأَتَيْنَا بَدَلَهُمَا مِنْ هَذَا الصَّاعِ الْوَاحِدِ فَأَلْقَى التَّمْرَةَ مِنْ يَدِهِ وَقَالَ:" رُدُّوهُ رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ يَدًا بِيَدٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، فَمَنْ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَرْبَى وَكُلُّ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَكَّرْتَنِي يَا أَبَا سَعِيدٍ أَمْرًا أُنْسِيتُهُ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، وَكَانَ يَنْهَى بَعْدَ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ.
(١٠٥١٩) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ صرف میں تفاضل کے قائل تھے وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے تھے، جب وہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملے تو ابو سعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابن عباس! کیا آپ اللہ سے نہیں ڈرتے۔ کب تک آپ لوگوں کو سود کھلاؤ گے۔ کیا آپ کو یہ خبر نہیں ملی کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عجوہ کھجور کھانے کو میرا دل چاہتا ہے تو ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے پرانی کھجوروں کے دو صاع ایک انصاری کے گھر بھیج دے اور اس کے عوض ایک صاع عجوہ کھجور کا ان کو مل گیا۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کی۔ آپ کو بڑی پسند آئیں۔ آپ نے ایک کھجور پکڑی۔ پھر رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں یہ کہاں سے ملی ہیں تو ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دو صاع پرانی کھجوریں فلاں کے بھیجی تھیں تو اس کے بدلے یہ ایک صاع آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے کھجور ڈال دی اور فرمایا: تم اس کو واپس کر دو۔ تم اس کو واپس کر دو۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کھجور کے بدلے کھجور، گندم کے بدلے گندم۔ جو کے بدلے جَو سونے کے بدلے سونا چاندی کے بدلے چاندی برابر، برابر اور نقد ہونا چاہیے۔ اس میں کمی یا زیادتی درست نہیں ہے، جس نے زیادہ یا کمی کی اس نے سود حاصل کیا۔ ہر وہ چیز جس کا وزن کیا جائے یا ماپی جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے ابو سعید! آپ نے مجھے ایسا معاملہ یاد کروا دیا جو میں بھول گیا تھا، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10519]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 2/ 49»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10520
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبُو زُهَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو مِجْلَزٍ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الصَّرْفِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ:" لَا بَأْسَ بِمَا كَانَ مِنْهُ يَدًا بِيَدٍ" وَكَانَ يَقُولُ:" إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" حَتَّى لَقِيَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" عَيْنٌ بِعَيْنٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ رِبًا" قَالَ:" وَكُلُّ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ فَكَذَلِكَ أَيْضًا"، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" جَزَاكَ اللهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ عَنِّي الْجَنَّةَ، فَإِنَّكَ ذَكَّرْتَنِي أَمْرًا كُنْتُ نَسِيتُهُ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، وَكَانَ يَنْهَى عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مِجْلَزٍ تَفَرَّدَ بِهِ حَيَّانُ، قُلْتُ: حَيَّانُ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَيُقَالُ فِي قَوْلِهِ وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ أَنَّهُ مِنْ جِهَةِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَكَذَلِكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ إِنْ صَحَّتْ وَيُسْتَدَلُّ عَلَيْهِ بِرِوَايَةِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي احْتِجَاجِهِ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِقِصَّةِ التَّمْرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ، فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أِيَّ تَمْرٍ شِئْتَ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا أَمِ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ؟ فَكَانَ هَذَا قِيَاسًا مِنْ أَبِي سَعِيدٍ لِلْفِضَّةِ عَلَى التَّمْرِ الَّذِي رُوِيَ فِيهِ قِصَّةٌ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ الرُّوَاةِ رَوَاهُ مُفَسَّرًا مَفْصُولًا، وَبَعْضُهُمْ رَوَاهُ مُجْمَلًا مَوْصُولًا وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٠٥٢٠) حیان بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ ابومجلز سے صرف تبادلہ رقم کے متعلق سوال کیا گیا اور میں بھی موجود تھا تو ابومجلز لاحق بن حمید نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنی عمر کے ایک عرصہ میں کہا کرتے تھے، جب نقدی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے، وہ فرماتے تھے کہ سود تو ادھار میں ہے، یہاں تک کہ ابو سعید خدری ملے تو انھوں نے اس طرح حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں کہ جنس جنس کے بدلے برابر ہونی چاہیے۔ جس نے زیادتی کی وہ سود ہے اور ہر چیز جو تولی جائے یا ماپی جائے وہ بھی اسی طرح ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے ابوسعید! اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ میری طرف سے جنت دے۔ آپ نے مجھے بھولا ہوا کام یاد کروا دیا ہے۔ میں اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10520]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10521
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ:" إِنَّ الرِّبَا إِنَّمَا هُوَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَفِيمَا يُكَالُ وَيُوزَنُ مِمَّا يُؤْكَلُ وَيُشْرَبُ".
(١٠٥٢١) زہری فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب فرمایا: سود صرف سونے چاندی میں ہے یا پھر جو چیزیں ماپی تولی جاتی ہیں جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10521]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 14139»
الحكم على الحديث: صحيح