السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2255. -- باب: تفسير العرايا
-- باب: بیعِ عرایا کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 10663
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ⦗٥٠٧⦘ أَنَّهُ قَالَ:" الْعَرِيَّةُ الرَّجُلُ يُعْرِي الرَّجُلَ النَّخْلَةَ أَوِ الرَّجُلُ يَسْتَثْنِي مِنْ مَالِهِ النَّخْلَةَ أَوِ الِاثْنَتَيْنِ لِيَأْكُلَهَا فَيَبِيعَهَا بِتَمْرٍ".
عبد ربہ بن سعید انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْعَرِيَّةُ» ”عریہ“ یہ ہے کہ آدمی، آدمی کو کھجور کا درخت عاریتاً دے دیتا ہے یا آدمی اپنے مال سے ایک یا دو درخت کھجور کے استثنا کر لیتا ہے تاکہ ان سے کھائے، تو وہ ان کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کر دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10663]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 3365»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10663 in Urdu