السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2287. -- باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم
-- باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 10822
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَبِي جَلَّابُ الْغَنَمِ وَإِنَّهُ مُشَارِكٌ الْيَهُودِيَّ وَالنَّصْرَانِيَّ، قَالَ:" لَا نُشَارِكْ يَهُودِيًّا، وَلَا نَصْرَانِيًّا، وَلَا مَجُوسِيًّا"، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ:" لِأَنَّهُمْ يُرْبُونَ وَالرِّبَا لَا يَحِلُّ".
ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میرا والد بکریوں کا تاجر ہے، وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے شراکت کرتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم یہودی، عیسائی اور مجوسی سے شراکت نہیں رکھتے، میں نے کہا: کیوں؟ اس لیے کہ وہ سود لیتے ہیں اور سود جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10822]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبه 1998»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10822 in Urdu