🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2287. -- باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم
-- باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10816
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَاللهِ لَا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ مُشْتَبِهَاتٍ"، وَرُبَّمَا قَالَ:" أُمُورًا مُشْتَبِهَةً"، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللهَ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى" قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ:" أَوْشَكَ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ" قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَمْ شَيْءٌ قَالَهُ الشَّعْبِيُّ ⦗٥٤٦⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اور (راوی کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! ان کے بعد میں کسی کو یہ کہتے نہیں سنوں گا، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال و حرام واضح ہے اور جو ان کے درمیان ہے وہ مشتبہ ہے“ اور بعض اوقات کہا کہ ”مشتبہ امور ہیں۔ عنقریب میں تمہارے لیے ایک مثال بیان کروں گا کہ بیشک اللہ رب العزت نے ایک چراگاہ مقرر کی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں اور جو چراگاہ کے اردگرد چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ چراگاہ میں داخل ہو جائے“ راوی کہتے ہیں: بعض اوقات فرمایا کہ ”وہ چراگاہ میں چرے اور جو شک میں پڑ جاتا ہے، قریب ہے کہ وہ دلیر ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ بات اس حدیث کا حصہ ہے یا شعبی کا اپنا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10816]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1946»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" حَلَالٌ بَيِّنٌ، وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلَكٍ حِمًى، وَحِمَى اللهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”حلال و حرام واضح ہے اور اس کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں، جس نے اس گناہ کو چھوڑ دیا جو اس پر مشتبہ تھا، وہ واضح گناہ کو بدرجہ اولیٰ چھوڑنے والا ہوگا اور جس نے مشکوک چیز پر جرات کی، قریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہو جائے اور بیشک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ زمین میں اس کی نافرمانیاں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10817]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10818
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي، أَوْ فِي بَيْتِي فَأَرْفَعُهَا؛ لِآكُلَهَا ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأُلْقِيَهَا"، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ هَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے گھر واپس آتا ہوں، میں اپنے بستر یا گھر ایک کھجور گری پڑی دیکھتا ہوں تاکہ اٹھا کر کھا لوں، لیکن پھر ڈر جاتا ہوں کہیں صدقہ کی نہ ہو، میں اس کو پھینک دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10818]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2300»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10819
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ:" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ".
ابو الحوراء کہتے ہیں: میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، کیونکہ سچائی اطمینان کا باعث ہے جبکہ جھوٹ شک کا سبب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10819]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي 2518»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10820
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، وَعَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ؛ حَذَرًا لِمَا بِهِ الْبَأْسُ".
سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ نیک لوگوں کے مرتبہ کو حاصل نہیں کر سکتا، جب تک بے ضرر چیزوں سے نہ بچے اور ضرر دینے والی اشیاء بدرجہ اولیٰ نہ چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10820]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ترمذي 245»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10821
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ ⦗٥٤٧⦘ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنِ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَكَانَ فِي آخِرِ مَا حَفِظْتُ أَنْ قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ إِلَّا أَبْدَلَكَ اللهُ بِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ".
حمید بن ہلال رحمہ اللہ اپنی قوم کے ایک دیہاتی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سکھاؤ۔ جو میں نے یاد کیا اس کے آخر میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ اللہ کے ڈر سے کوئی چیز چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ اس کے بدلے اس سے بہتر چیز عطا کردیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10821]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10822
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَبِي جَلَّابُ الْغَنَمِ وَإِنَّهُ مُشَارِكٌ الْيَهُودِيَّ وَالنَّصْرَانِيَّ، قَالَ:" لَا نُشَارِكْ يَهُودِيًّا، وَلَا نَصْرَانِيًّا، وَلَا مَجُوسِيًّا"، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ:" لِأَنَّهُمْ يُرْبُونَ وَالرِّبَا لَا يَحِلُّ".
ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میرا والد بکریوں کا تاجر ہے، وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے شراکت کرتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم یہودی، عیسائی اور مجوسی سے شراکت نہیں رکھتے، میں نے کہا: کیوں؟ اس لیے کہ وہ سود لیتے ہیں اور سود جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10822]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبه 1998»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، سَمِعَ رَجُلًا، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ: إِنَّ لِي جَارًا يَأْكُلُ الرِّبَا، أَوْ قَالَ: خَبِيثُ الْكَسْبِ، وَرُبَّمَا دَعَانِي لِطَعَامِهِ أَفَأُجِيبُهُ؟، قَالَ:" نَعَمْ".
ربیع بن عبداللہ نے ایک آدمی کو سنا، اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہمارا ہمسایہ سود کھاتا ہے یا اس کی کمائی حرام کی ہے اور بعض اوقات مجھے کھانے کی دعوت دیتا ہے، کیا میں قبول کر لیا کروں؟ فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10823]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10824
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ جَوَّابٍ التَّمِيمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارًا، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ شَيْئًا إِلَّا خَبَثًا، أَوْ حَرَامًا وَأَنَّهُ يَدْعُونِي، فَأُحْرَجُ أَنْ آتِيَهُ وَأَتَحَرَّجُ أَنْ لَا آتِيَهُ، فَقَالَ:" ائْتِهِ، أَوْ أَوْجِبْهُ فَإِنَّمَا وِزْرُهُ عَلَيْهِ" قَالَ الشَّيْخُ: جَوَّابٌ التَّيْمِيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَهَذَا إِذَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّ الَّذِي قُدِّمَ إِلَيْهِ حَرَامٌ فَإِذَا عَلِمَ حَرَامًا لَمْ يَأْكُلْهُ، كَمَا لَمْ يَأْكُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي قُدِّمَتْ إِلَيْهِ.
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ میرا ایک ہمسایہ ہے مجھے تو اس کی کمائی حرام یا خبیث کا علم ہی ہے، وہ مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے پاس کھانا کھاؤں لیکن میں ممنوع خیال کرتا ہوں اس کے پاس آنے کو اور میں پریشانی سے بچنا چاہتا ہوں کہ میں نہ آؤں۔ انہوں نے کہا: تم اس کی دعوت قبول کرو، اس کا گناہ اس پر ہے۔
نوٹ: یہ اس وقت ہے جب اس کو معلوم نہ ہو کہ اس کو حرام پیش کیا گیا ہے لیکن جب معلوم ہو کہ حرام ہے پھر نہ کھائے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کو کھانے سے انکار کر دیا تھا۔
جواب تیمی قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10824]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10825
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، أنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ:" أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ" فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ، فَأَكَلُوا فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا" فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً فَلَمْ تُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلِيَّ بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلِيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْعِمِيهِ الْأُسَارَى".
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ قبر کھودنے والے کو نصیحت فرما رہے تھے: ”پاؤں اور سر کی جانب سے وسیع کرو۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو ایک عورت نے دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے میں رکھا اور لوگوں نے بھی کھانا شروع کیا، ہمارے آباء نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمے کو منہ میں چبا رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت ایسی بکری کا ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے۔“ اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بقیع میں کسی کو بکری خریدنے بھیجا تھا، لیکن بکری نہ ملی، پھر میں نے اپنے ہمسائے کی جانب کسی کو بھیجا کہ وہ اتنی قیمت کی بکری لے کر دے لیکن نہ ملی، پھر میں نے اس کی عورت کی طرف کسی کو روانہ کیا تو اس نے بکری لا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ کھانا) قیدیوں کو کھلا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10825]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 33322»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں