السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2287. -- باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم
-- باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 10825
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، أنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ:" أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ" فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ، فَأَكَلُوا فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا" فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً فَلَمْ تُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلِيَّ بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلِيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْعِمِيهِ الْأُسَارَى".
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ قبر کھودنے والے کو نصیحت فرما رہے تھے: ”پاؤں اور سر کی جانب سے وسیع کرو۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو ایک عورت نے دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے میں رکھا اور لوگوں نے بھی کھانا شروع کیا، ہمارے آباء نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمے کو منہ میں چبا رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت ایسی بکری کا ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے۔“ اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بقیع میں کسی کو بکری خریدنے بھیجا تھا، لیکن بکری نہ ملی، پھر میں نے اپنے ہمسائے کی جانب کسی کو بھیجا کہ وہ اتنی قیمت کی بکری لے کر دے لیکن نہ ملی، پھر میں نے اس کی عورت کی طرف کسی کو روانہ کیا تو اس نے بکری لا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ کھانا) قیدیوں کو کھلا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10825]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 33322»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10825 in Urdu