السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2324. -- باب: الولي يأكل من مال اليتيم مكان قيامه عليه بالمعروف إذا كان فقيرا
-- باب: اگر ولی محتاج ہو تو وہ یتیم کے مال کی دیکھ بھال کرنے کے عوض اس میں سے دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10994
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مِمَّ أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ قَالَ:" مِمَّا كُنْتَ مِنْهُ ضَارِبًا وَلَدَكَ"، قَالَ: أَفَأُصِيبُ مِنْ مَالِهِ؟ قَالَ:" غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، وَلَا وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ" هَذَا مُرْسَلٌ.
حضرت حسن عرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ماتحت یتیم کو کس بنا پر مار سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بنا پر تم اپنی اولاد کو مار سکتے ہو۔“ اس آدمی نے پھر کہا: کیا میں اس کے مال میں سے لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس حالت میں لے سکتا ہے کہ تو اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنے والا نہ ہو اور نہ اپنے مال کو اس کے ذریعے بچانے والا ہو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10994]
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10994]
تخریج الحدیث: «مُرْسَلٌ»
الحكم على الحديث: مُرْسَلٌ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10994 in Urdu