🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2409. -- باب: وجوب الحق بالضمان
-- باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" فَقَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ:" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے ایک آدمی کا ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحوالة/حدیث: 11395]
تخریج الحدیث: «بخاري 2297، مسلم 1619»

الحكم على الحديث: بخاري 2297، مسلم 1619

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11395 in Urdu