السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2409. -- باب: وجوب الحق بالضمان
-- باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11396
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قَالَ:" ثَلَاثَ كَيَّاتٍ". قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ هَكَذَا فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَفِي رِوَايَةِ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجِنَازَةِ الْأُخْرَى قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ. فَصَلَّى عَلَيْهَا.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: تین دینار۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ) تین داغ ہیں۔“ پھر ایک تیسرے آدمی کا جنازہ لایا گیا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ انصار کے ایک آدمی نے، جنہیں ابو قتادہ (رضی اللہ عنہ) کہا جاتا تھا، عرض کیا: آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں، اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحوالة/حدیث: 11396]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11396 in Urdu