السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2437. -- باب: تحريم الغصب وأخذ أموال الناس بغير حق
-- باب: غصب کرنے اور لوگوں کے مال ناحق لینے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11495
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ السَّرِيِّ الرَّافِقِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عُمَرَ هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ الرَّقِّيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" ⦗١٥٣⦘ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، ثُمَّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ أِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَتَدْرُونَ أِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" فَسَكَتْنَا حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟" فَقُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ حَرَامٌ بَيْنَكُمْ مِثْلُ يَوْمِكُمْ، فِي مِثْلِ شَهْرِكُمْ، فِي مِثْلِ بَلَدِكُمْ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، مَرَّتَيْنِ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ"، ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ فَجَعَلَ يَقْسِمُهَا، بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةُ، وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حجۃ الوداع کا دن تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، پھر ٹھہرے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ ہم خاموش ہو گئے، ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم خاموش ہو گئے، ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کے علاوہ نام لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ (حرمت والا) شہر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تمہارا مال، عزتیں اور تمہارے خون آپس میں حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس دن، اس شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔ خبردار! جو حاضر ہے اسے غائب تک پہنچا دینا چاہیے۔“ یہ دو مرتبہ فرمایا۔ ”بسا اوقات جسے پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر چند بکریوں کی طرف مائل ہوئے اور انہیں تقسیم کرنے لگے، ایک بکری دو آدمیوں کے درمیان اور تین کے درمیان بھی ایک بکری۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العارية/حدیث: 11495]
تخریج الحدیث: «بخاري 1742، مسلم 1679»
الحكم على الحديث: بخاري 1742، مسلم 1679
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11495 in Urdu