🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2454. -- باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم
-- باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11628
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُعَافَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ، وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ، فَخَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدْعُوهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ:" فِي ذَا كَذَا وَكَذَا"، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَأَنَا آخُذُ النَّخْلَ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ"، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ، وَبِهِ قَامَتِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو ان پر شرط عائد کی کہ زمین اور ہر زرد و سفید چیز یعنی سونا چاندی آپ کی ہو گی، خیبر والوں نے کہا: ہم اس زمین کو بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہمیں دے دیں۔ ہم اس میں کام کریں گے اور پھلوں کا نصف ہمارا ہوگا اور نصف تمہارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر خیبر کی زمین ان کو دے دی۔ جب کھجوریں کاٹنے کا وقت آیا تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا۔ انہوں نے کھجوروں کا اندازہ لگایا، جسے اہل مدینہ «الْخَرْصُ» کہتے تھے۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں اتنا اتنا ہے۔ انہوں نے کہا: اے ابن رواحہ! آپ نے زیادہ اندازہ لگایا ہے۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو کھجوریں میں لے لیتا ہوں اور جو میں نے کہا ہے اس کا نصف تم کو دے دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: یہی وہ حق ہے جس سے آسمان اور زمین قائم ہیں، ہم اسی پر راضی ہیں کہ جو آپ نے کہا ہے اس کے مطابق لے لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 2255»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11628 in Urdu