السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2454. -- باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم
-- باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11629
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ صَالِحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ دَعَا يَهُودَ فَقَالَ:" نُعْطِيكُمْ نِصْفَ الثَّمَرِ عَلَى أَنْ تَعْمَلُوها، أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ يَخْرُصُهَا ثُمَّ يُخَيِّرُهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهَا أَوْ يَتْرُكُوهَا، وَأَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ ذَلِكَ فَاشْتَكَوْا إِلَيْهِ، فَدَعَا عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَذَكَرَ لَهُ مَا ذَكَرُوا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، هُمْ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءُوا أَخَذُوهَا، وَإِنْ تَرَكُوهَا أَخَذْنَاهَا، فَرَضِيَتِ الْيَهُودُ وَقَالَتْ: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ:" لَا يَجْتَمِعُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ"، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَكُمْ عَلَى هَذِهِ الْأَمْوَالِ وَشَرَطَ لَكُمْ أَنْ يُقِرَّكُمْ، يَعْنِي مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ، وَقَدْ أَذِنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِجْلَائِكُمْ حِينَ عَهِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَهِدَ، فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ يَهُودِيٍّ وَنَصْرَانِيٍّ فِي أَرْضِ الْحِجَازِ، ثُمَّ قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو یہودیوں کو بلایا اور فرمایا: ”ہم تم کو پھلوں کا نصف دیں گے اس شرط پر کہ تم اس میں کام کرو گے۔ میں تمہیں ٹھہراتا ہوں جیسا کہ اللہ نے تم کو ٹھہرایا ہے۔“ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ کو بھیجا کرتے تھے، وہ اندازہ لگاتے، پھر انہیں اختیار دیتے کہ اسے رکھ لیں یا چھوڑ دیں اور یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ کو بلایا اور بتایا جو انہوں نے بیان کیا تھا۔ عبداللہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! اس میں انہیں اختیار ہوتا ہے، اگر چاہیں تو پکڑ لیں یا چھوڑ دیں تو ہم اسے رکھ لیں گے۔“ پس یہودی راضی ہو گئے اور انہوں نے کہا: ”اسی کے ساتھ آسمان اور زمین قائم ہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں فرمایا جس میں آپ کی وفات ہوئی کہ: ”جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے۔“ جب یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے خیبر کے یہودیوں کی طرف پیغام بھیجا کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو ان اموال پر عامل بنایا ہے اور شرط لگائی تھی کہ وہ تم کو برقرار رکھیں گے۔“ یعنی جتنی دیر اللہ برقرار رکھے گا اور تحقیق اللہ نے تمہاری جلاوطنی کی اجازت دے دی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلاوطن کر دیا۔ ہر یہودی اور عیسائی کو حجاز کی زمین سے نکال دیا۔ پھر اس کو اہل حدیبیہ کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11629]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11629 in Urdu