🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2464. -- باب: الإمام يضمن والمعلم يغرم من صار مقتولا بتعزير الإمام وتأديب المعلم
-- باب: جو شخص امام (حکمران) کی تعزیر یا استاد کی تادیب (سزا) سے مارا جائے تو امام ضامن ہوگا اور استاد تاوان ادا کرے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11673
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهَ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: ثنا الْمَاسَرْجِسِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا سَلَّامٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَلَغَهُ أَنَّ امْرَأَةً بَغِيَّةً يَدْخُلُ عَلَيْهَا الرِّجَالُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولًا، فَأَتَاهَا الرَّسُولُ فَقَالَ: أَجِيبِي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَفَزِعَتْ فَزْعَةً وَقَعَتِ الْفَزْعَةُ فِي رَحِمِهَا؛ فَتَحَرَّكَ وَلَدُهَا، فَخَرَجَتْ فَأَخَذَهَا الْمَخَاضُ فَأَلْقَتْ غُلَامًا جَنِينًا، فَأَتَى عُمَرَ بِذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْمُهَاجِرِينَ فَقَصَّ عَلَيْهِمْ أَمْرَهَا، فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ؟ فَقَالُوا: مَا نَرَى عَلَيْكَ شَيْئًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّمَا أَنْتَ مُعَلِّمٌ وَمُؤَدِّبٌ، وَفِي الْقَوْمِ عَلِيٌّ، وَعَلِيٌّ سَاكِتٌ، قَالَ: فَمَا تَقُولُ أَنْتَ يَا أَبَا الْحَسَنِ؟ قَالَ: أَقُولُ:" إِنْ كَانُوا قَارَبُوكَ فِي الْهَوَى فَقَدْ أَثِمُوا، وَإِنْ كَانَ هَذَا جَهْدُ رَأْيِهِمْ فَقَدْ أَخْطَأُوا، وَأَرَى عَلَيْكَ الدِّيَةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ" قَالَ: صَدَقْتَ، اذْهَبْ فَاقْسِمْهَا عَلَى قَوْمِكَ.
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پتا چلا کہ ایک بدکار عورت کے پاس مرد آتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اس آدمی نے کہا: امیر المومنین کا بلاوا قبول کرو۔ وہ سخت گھبرا گئی اور یہ گھبراہٹ اس کے رحم تک پہنچی تو اس کا بچہ حرکت کرنے لگا، وہ باہر نکلی تو اسے دردِ زہ شروع ہو گیا اور اس نے ایک لڑکے کا جنین گرا دیا۔ یہ معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، آپ نے مہاجرین کی طرف پیغام بھیجا، انہیں اس کا قصہ سنایا اور ان سے رائے مانگی تو انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم آپ پر کچھ نہیں سمجھتے، آپ تو معلم اور مؤدب ہیں۔ قوم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوالحسن! آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ کہنے لگے: اگر انہوں نے آپ کی خواہش کی طرف جھکاؤ میں یہ بات کہی ہے تو وہ گناہ گار ہیں، اور اگر یہ ان کی رائے کی پوری کوشش (اجتہاد) تھی تو انہوں نے غلطی کی، اور اے امیر المومنین! میں آپ کو دیت کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا ہے، جاؤ اور اسے اپنی قوم پر تقسیم کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الإجارة/حدیث: 11673]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11673 in Urdu