السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2489. -- باب: ما لا يجوز إقطاعه من المعادن الظاهرة
-- باب: ظاہری کانوں میں سے جنہیں بطور جاگیر عطا کرنا جائز نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 11831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ⦗٢٤٨⦘ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ، وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا قَالَتْ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَقَدِمَ صَاحِبِي، تَعْنِي حُرَيْثَ بْنَ حَسَّانَ وَافِدَ بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ عَلَيْهِ وَعَلَى قَوْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّهْنَاءِ أَنْ لَا يُجَاوِزَهَا إِلَيْنَا مِنْهُمْ إِلَّا مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ، فَقَالَ:" اكْتُبْ لَهُ يَا غُلَامُ بِالدَّهْنَاءِ"، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَدْ أَمَرَ لَهُ بِهَا شُخِصَ بِي وَهِيَ وَطَنِي وَدَارِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْكَ السَّوِيَّةَ مِنَ الْأَرْضِ إِذْ سَأَلَكَ، إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الدَّهْنَاءُ عِنْدَكَ، مُقَيَّدُ الْجَمَلِ، وَمَرْعَى الْغَنَمِ، وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُهَا وَرَاءَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَمْسِكْ يَا غُلَامُ، صَدَقَتِ الْمِسْكِينَةُ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، يَسَعُهُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ، وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَى الْفَتَّانِ".
صفیہ اور دحیبہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ان کی دادی رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میرے صاحب یعنی حریث بن حسان رضی اللہ عنہ بنی بکر بن وائل کی طرف سے وفد کی صورت میں آئے، اسلام پر بیعت کی، پھر کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اور بنی تمیم کے درمیان دہناء کے بارے میں لکھ دیں کہ ان میں سے کوئی اس سے تجاوز کر کے ہماری طرف نہ آئے، الا یہ کہ کوئی مسافر ہو یا پناہ لینے والا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے غلام! اس کے لیے دہناء لکھ دو۔“ جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اس کے لیے دینے کا حکم دے دیا ہے تو میں پریشان ہو گئی، حالانکہ وہ میرا وطن اور میرا گھر تھا، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جب آپ سے سوال کیا تو برابری والی زمین کا سوال نہیں کیا، یہ دہناء تو آپ کے ہاں اونٹ باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور ان کے بیٹے اس کے پیچھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے غلام! ٹھہر جا، مسکینہ نے سچ کہا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، پانی اور درخت ان دونوں کے لیے کافی ہیں اور وہ فتنہ ڈالنے والے کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11831]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11831 in Urdu