السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2499. -- باب: من قضى فيما بين الناس بما فيه صلاحهم ودفع الضرر عنهم على الاجتهاد
-- باب: اس شخص کے بیان میں جو لوگوں کے درمیان اجتہاد کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرے جس میں ان کی بھلائی ہو اور ان سے نقصان دور ہو
حدیث نمبر: 11883
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ، وَكَانَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ يَدْخُلُ إِلَى نَخْلِهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُ، فَأَبَى، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُنَاقِلَهُ، فَأَبَى، قَالَ: قَالَ:" فَهَبْهُ لِي وَلَكَ كَذَا وَكَذَا"، أَمْرٌ رَغَّبَهُ فِيهِ، فَأَبَى، فَقَالَ: أَنْتَ مُضَارٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ:" اذْهَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَهُ" وَقَدْ رُوِيَ فِي معارضته مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا يُجْبَرُ عَلَيْهِ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے بھی چند درخت تھے اور اس کے ساتھ اہل و عیال بھی تھے، اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ جب باغ میں داخل ہوتے تو اس آدمی پر مشکل اور گراں گزرتا۔ اس نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ درخت بیچ دیں لیکن سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، اس نے کہا کہ ان کا تبادلہ کر لیں، انہوں نے پھر انکار کر دیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بیچ دو“ لیکن سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بدل کے طور پر مانگے۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے پھر انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو مجھے ہبہ کر دے اور تیرے لیے اتنا اتنا ہو گا“، یہ بات آپ نے انہیں رغبت دلانے کے لیے فرمائی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نقصان پہنچانے والا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا: ”جا اور اس کے درختوں کو اکھاڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب إحياء الموات/حدیث: 11883]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 3636»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11883 in Urdu