السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
265. -- باب: الخبر الذي ورد في سؤر ما يؤكل لحمه
-- باب: حلال گوشت جانوروں کے جھوٹے کے متعلق وارد شدہ حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 1189
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أُكِلَ لَحْمُهُ فَلَا بَأْسَ بِسُؤْرِهِ" ⦗٣٨٢⦘ كَذَا يُسَمِّيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ مُصْعَبَ بْنَ سَوَّارٍ فَقَلَبَ اسْمَهُ وَإِنَّمَا هُوَ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَسَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ مَتْرُوكٌ أَخْبَرَنَا بِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَمَعَ ضَعْفِ سَوَّارِ بْنِ مُصْعَبٍ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي مَتْنِهِ فَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ عَنْهُ هَكَذَا، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ عَنْهُ بِإِسْنَادِهِ: لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا أُكِلَ لَحْمُهُ، وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرْفُوعًا فِي الْبَوْلِ وَعَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَيَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ضَعِيفَانِ وَلَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس جانور کا گوشت کھایا جائے اس کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں۔“ (ب) عبداللہ بن رجاء نے اس کا نام مصعب بن سوار بیان کیا ہے جبکہ یہ قلب ہوا اور اس کا نام سوار بن مصعب ہے۔ (ج) ابوبکر بن حارث فقیہ نے امام دارقطنی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ وہ متروک الحدیث ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں کہ سوار بن مصعب کے ضعیف ہونے کی وجہ سے اس کے متن میں اختلاف ہے۔ عبداللہ بن رجاء نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ یحییٰ بن ابوبکیر نے اپنی اسناد سے بیان کیا ہے، ان کے الفاظ یہ ہیں: «لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا أُكِلَ لَحْمُهُ» ”ان جانوروں کے پیشاب لگ جانے میں کوئی حرج نہیں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے۔“ (س) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پیشاب کے متعلق مرفوعاً منقول ہے۔ (ط) عمرو بن حصین اور یحییٰ بن علاء ضعیف ہیں، اس میں کچھ ٹھیک نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا۔ أخرجه الدار قطني 1/127»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1189 in Urdu