السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2604. -- باب: من قال بنسخ الوصية للأقربين الذين لا يرثون وجوازها للأجنبيين
-- باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے ان قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا کہا جو وارث نہیں ہوتے اور اجنبیوں کے لیے اس کے جواز کا قول کیا
حدیث نمبر: 12549
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَكَانَتْ دَلَالَةُ السُّنَّةِ فِي حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِيِّنَةً أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٣٥⦘ أَنْزَلَ عِتْقَهُمْ فِي الْمَرَضِ وَصِيَّةً، وَالَّذِي أَعْتَقَهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، وَالْعَرَبِيُّ إِنَّمَا يَمْلِكُ مَنْ لَا قَرَابَةَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مِنَ الْعَجَمِ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمُ الْوَصِيَّةَ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ ثَابِتٌ مِنْ جِهَةِ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سنت کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری میں ان کی آزادی کو وصیت قرار دیا، اور ان کو آزاد کرنے والا عرب کا ایک آدمی تھا اور عربی تو انہی عجمیوں کا مالک ہوتا ہے جن کے اور اس کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے وصیت کی اجازت دے دی۔
یہ حدیث ابو المہلب اور محمد بن سیرین کی سند سے سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12549]
یہ حدیث ابو المہلب اور محمد بن سیرین کی سند سے سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12549]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12549 in Urdu