السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2606. -- باب: الوصية بالثلث
-- باب: ایک تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12567
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرِ بْنِ مَنْصُورٍ أَبُو عُثْمَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا، وَلَيْسَتْ تَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ، فَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَبِالشَّطْرِ؟ قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَبِالثُّلُثِ؟ قَالَ:" الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِنَّكَ لَعَلَّكَ أَنْ تُؤْجَرَ عَلَى جَمِيعِ نَفَقَتِكَ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَرْهَبُ أَنْ أَمُوتَ بِأَرْضٍ هَاجَرْتُ مِنْهَا، قَالَ:" إِنَّكَ لَعَلَّكَ أَنْ تَبْقَى حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ قَوْمٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللهُمُ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ".
عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں فتح مکہ کے سال بیمار ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس مال زیادہ ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: نصف کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: ثلث کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثلث ٹھیک ہے اور ثلث بھی زیادہ ہے۔ اگر تو اپنے ورثا کو غنی چھوڑے، وہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ بیشک تجھے تمام خرچ پر اجر ملے گا حتیٰ کہ اگر تو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھے گا تو اس میں بھی اجر ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ڈر ہے کہ میں فوت ہو جاؤں گا اس زمین میں جہاں سے ہجرت کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تو زندہ رہے گا، یہاں تک کہ کچھ لوگ تجھ سے نفع حاصل کریں گے اور کچھ نقصان پائیں گے۔ «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت کو کامیاب بنا اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر“، لیکن «لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ» ”سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس ہے“ اس لیے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12567]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12567 in Urdu