السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2645. -- باب: بيان مصرف الغنيمة في ابتداء الإسلام وأنها كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يضعها فيمن يراه ممن شهد الوقعة وممن لم يشهدها، حتى نزل قوله عز وجل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، فكان الخمس
-- باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
حدیث نمبر: 12718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ تَخَلَّفَ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ وَجِعَةً، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا حَتَّى تُوُفِّيَتْ يَوْمَ قَدِمَ أَهْلُ بَدْرٍ الْمَدِينَةَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ"، قَالَ: وَقَدِمَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ مِنَ الشَّامَ بَعْدَمَا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ:" لَكَ سَهْمُكَ"، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ"، وَقَدِمَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَقْدِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ:" لَكَ سَهْمُكَ"، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ" وَأَبُو لُبَابَةَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَرَجَّعَهُ وَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرٍ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الصَّفْرَاءَ فَأَصَابَ سَاقَهُ حَجَرٌ، فَرَجَعَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّهُ فَرَجَعَ مِنَ الرَّوْحَاءِ، فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَحَدِيثُ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ: رَدَّهُ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ.
اسماعیل بن ابراہیم اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، جو بدر میں حاضر ہوا اور جو پیچھے رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حصہ رکھا۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیچھے رہے تھے اپنی بیوی رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور وہ بیمار تھیں، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں، جس دن اہل بدر مدینہ میں آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نکالا۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اجر ہے“۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ شام سے آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدر سے لوٹنے کے بعد۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حصے کے بارے میں بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے بھی اجر ہے“۔ سعید بن زید رضی اللہ عنہ شام سے آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدر سے لوٹنے کے بعد، انہوں نے بھی کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا حصہ“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر بھی ہے“۔ ابولبابہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بدر میں وہ لوٹ آئے تھے، ان کو مدینہ پر امیر مقرر کیا تھا، ان کے لیے بھی اصحابِ بدر کے ساتھ حصہ رکھا۔ خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے، یہاں تک کہ جب صفراء مقام پر پہنچے تو ان کی پنڈلی پر پتھر لگا وہ بھی لوٹ آئے، ان کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ نکالا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوٹا دیا، اس کے لیے بھی حصہ رکھا۔ حارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، روحاء کے مقام پر ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ان کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ رکھا۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12718]
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12718]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12718 in Urdu