السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2645. -- باب: بيان مصرف الغنيمة في ابتداء الإسلام وأنها كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يضعها فيمن يراه ممن شهد الوقعة وممن لم يشهدها، حتى نزل قوله عز وجل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، فكان الخمس
-- باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
حدیث نمبر: Q12710
بَابُ بَيَانِ مَصْرِفِ الْغَنِيمَةِ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ وَأَنَّهَا كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُهَا فِيمَنْ يَرَاهُ مِمَّنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ وَمِمَّنْ لَمْ يَشْهَدْهَا، حَتَّى نَزَلَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ} [الأنفال: 41] ، فَكَانَ الْخُمُسُ لِأَهْلِ الْخُمُسِ، وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ.
باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جنگ میں شریک ہونے والوں اور شریک نہ ہونے والوں میں سے جسے مناسب سمجھتے دے دیتے تھے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل کا یہ فرمان نازل ہوا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ ”اور جان لو کہ تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے، رسول کے لیے، (رسول کے) قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔“ [سورة الأنفال: 41]
چنانچہ خمس (پانچواں حصہ) اہلِ خمس کے لیے ہو گیا اور اس کے (باقی) چار حصے ان لوگوں کے لیے جو جنگ میں شریک ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: Q12710]
چنانچہ خمس (پانچواں حصہ) اہلِ خمس کے لیے ہو گیا اور اس کے (باقی) چار حصے ان لوگوں کے لیے جو جنگ میں شریک ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: Q12710]
حدیث نمبر: 12710
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ؛ أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ:" ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ"، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ:" ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، وَاجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ، قَالَ:" ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ"، وَنَزَلَتْ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ: اجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں، مجھے بدر کے دن تلوار ملی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں سے اٹھایا ہے وہاں رکھ دو“، میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں سے اٹھایا ہے وہاں رکھ دو“، میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے دے دیں، کیا میں اس شخص کی طرح رہوں گا جو نادار ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں رکھ جہاں سے لی ہے“، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12710]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1748»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12711
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ قَدْ شُفِيَ صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ، فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ"، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ: يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي، فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ:" أَجِبْ"، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِي، فَجِئْتُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَكَ؛ فَإِنَّ اللهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي، فَهُوَ لَكَ"، ثُمَّ قَرَأَ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدر کے دن ایک تلوار لے کر آیا، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آج اللہ تعالیٰ نے دشمن سے میرے سینے کو ٹھنڈ پہنچائی ہے، پس یہ تلوار مجھے دے دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تلوار میری ہے نہ تیری۔“ میں چلا گیا اور کہہ رہا تھا: ”آج یہ اس کو ملے گی جس کا امتحان میرے جیسا نہ ہوا ہوگا۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا، میں نے سمجھا کہ میرے بارے میں کچھ نازل ہوا ہوگا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا اور وہ نہ میری تھی نہ تیری، پس اللہ تعالیٰ نے میری کر دی اور وہ اب تیرے لیے ہے۔“ پھر آیت پڑھی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12711]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12712
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ مِنَ النَّفْلِ كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: فَتَقَدَّمَ الْفِتْيَانُ، وَلَزِمَ الْمَشْيَخَةُ الرَّايَاتِ فَلَمْ يَبْرَحُوهَا، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِمْ قَالَتِ الْمَشْيَخَةُ: كُنَّا رِدَاءً لَكُمْ، لَوِ انْهَزَمْتُمْ فِئْتُمْ إِلَيْنَا، فَلَا تَذْهَبُوا بِالْمَغْنَمِ وَنَبْقَى، فَأَبَى الْفِتْيَانُ وَقَالُوا: جَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى قَوْلِهِ {كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ} [الأنفال: ٥] ، يَقُولُ: فَكَانَ ذَلِكَ خَيْرًا لَهُمْ، وَكَذَلِكَ أَيْضًا فَأَطِيعُونِي فَإِنِّي أَعْلَمُ بِعَاقِبَةِ هَذَا مِنْكُمْ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: ”جو یہ کام کرے گا اس کے لیے یہ انعام ہے“ تو جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے نشانوں کے پاس رہے۔ پھر وہ وہیں جمے رہے، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا: ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے، اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری طرف پلٹتے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ غنیمت کا مال تم لے جاؤ اور ہم یوں ہی رہ جائیں۔ پس نوجوان نہ مانے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] سے ﴿لَکَارِہُونَ﴾ [سورة الأنفال: 5] تک۔ ان کے لیے یہی بہتر تھا، پس تم میری اطاعت کرو میں انجام کار کو زیادہ جانتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12712]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12713
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. زَادَ: فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ بِالسَّوَاءِ.
ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں برابر تقسیم کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12713]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْأَنْفَالِ، قَالَ:" فِينَا أَصْحَابَ بَدْرٍ نَزَلَتْ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ الْتَقَى النَّاسُ بِبَدْرٍ نَفَّلَ كُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ، وَكُنَّا أَثْلَاثًا؛ ثُلُثٌ يُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ وَيَأْسِرُونَ، وَثُلُثٌ يَجْمَعُونَ النَّفْلَ، وَثُلُثٌ قِيَامٌ دُونَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْشَوْنَ عَلَيْهِ كَرَّةَ الْعَدُوِّ حَرَسًا لَهُ، فَلَمَّا وَضَعَتِ الْحَرْبُ قَالَ الَّذِينَ أَصَابُوا النَّفْلَ: هُوَ لَنَا، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ كُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا يَقْتُلُونَ وَيَأْسِرُونَ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا، لَنَحْنُ شَغَلْنَا عَنْكُمُ الْقَوْمَ، وَخَلَّيْنَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ النَّفْلِ، فَمَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا يَحْرُسُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، لَقَدْ رَأَيْنَا أَنْ نَقْتُلَ الرِّجَالَ حِينَ مَنَحُونَا أَكْتَافَهُمْ، وَنَأْخُذَ النَّفْلَ لَيْسَ دُونَهُ أَحَدٌ يَمْنَعُهُ، وَلَكِنَّا خَشِينَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَّةَ الْعَدُوِّ، فَقُمْنَا دُونَهُ، فَمَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَاءَتْ أَخْلَاقُنَا انْتَزَعَهُ اللهُ مِنْ أَيْدِينَا فَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهُ عَلَى النَّاسِ عَنْ بَوَاءٍ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ تَقْوَى اللهِ وَطَاعَتُهُ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] " وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ مَعَ تَقْصِيرٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَقَالَ: فَقَسَمَهُ عَلَى السَّوَاءِ، لَمْ يَكُنْ فِيهِ يَوْمَئِذٍ خُمُسٌ".
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم اصحابِ بدر کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کے دن لوگوں سے ملے تو ہر ایک کو حصہ دیا اور ہم تین گروہوں میں تھے، ایک تہائی دشمن سے لڑ رہے تھے اور انہیں قیدی بناتے تھے اور ایک تہائی غنیمت کا مال جمع کر رہے تھے اور ایک تہائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کر رہے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دے، یعنی وہ آپ کے لیے پہرہ دے رہے تھے۔ جب جنگ ختم ہو گئی تو جن لوگوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا تھا، وہ کہنے لگے: ”یہ ہمارا ہے اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آدمی کے لیے حصہ مقرر کیا، جس مال کو اس نے پایا۔“ اور جو قتال کر رہے تھے اور دشمنوں کو قیدی بنا رہے تھے انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو۔ ہم نے دشمنوں کو تم سے مشغول رکھا اور تمہارے اور مال غنیمت کے درمیان راستہ خالی چھوڑ دیا، تو تم اس (غنیمت) کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو۔“ اور جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد پہرا دے رہے تھے، انہوں نے کہا: ”تم اس کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو۔ ہم نے یقیناً دشمن کے آدمیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا جبکہ وہ اپنے کندھے ہمیں ہبہ کر چکے تھے (یعنی ہمیں ان کو قتل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی)۔ ہم مال غنیمت اکٹھا کر سکتے تھے اور اس کام کے کرنے میں کوئی بھی حائل نہ تھا، لیکن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دشمن کے حملے سے ڈرتے (کہ کہیں دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا دے) تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو تم اس کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو۔“ جب ہم نے اختلاف کیا اور اخلاقیات کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے ہم سے وہ (مال غنیمت) چھین کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں دے دیا تو اللہ کے رسول نے اسے لوگوں میں برابر تقسیم کر دیا تو یہ اللہ کے تقویٰ، اس کی اطاعت، اس کے رسول کی اطاعت اور لوگوں کی آپس کی اصلاح میں (درست) تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿یَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، پس تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں (ایک دوسرے کی) اصلاح کرو۔“
جریر بن حازم نے اسے محمد بن اسحاق سے اس کی سند میں کمی کے ساتھ روایت کیا ہے، اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برابر تقسیم کیا، اس دن اس میں خمس نہیں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12714]
جریر بن حازم نے اسے محمد بن اسحاق سے اس کی سند میں کمی کے ساتھ روایت کیا ہے، اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برابر تقسیم کیا، اس دن اس میں خمس نہیں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12714]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ بِالْعَسْكَرِ، فَلَمَّا كَفَى اللهُ الْعَدُوَّ، وَرَجَعَ الَّذِينَ قَتَلُوهُمْ قَالُوا: لَنَا النَّفْلُ؛ نَحْنُ قَتَلْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللهُ وَهَزَمَهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا، هُوَ لَنَا؛ نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَالُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، وَقَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا؛ نَحْنُ اسْتَوْلَيْنَا عَلَى الْعَسْكَرِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] إِلَى قَوْلِهِ {إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: ٩١] ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ عَنْ فَوَاقٍ".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن سے ملے۔ جب اللہ نے ان کو شکست دی تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کا پیچھا کیا، ان کو قتل کرنے لگے اور ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لے لیا اور ایک جماعت مال اکٹھا کرنے لگ گئی، جب اللہ تعالیٰ دشمن کو کافی ہو گئے اور جنہوں نے ان کو قتل کیا تھا وہ لوٹ آئے انہوں نے کہا: دشمن کو ہم نے قتل کیا لہٰذا ہمارے لیے غنیمت ہے اور ہماری وجہ سے اللہ نے ان کو شکست دی اور جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لیا تھا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو اس لیے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لیا تھا تاکہ دشمن آپ تک نہ پہنچ سکے اور ان لوگوں نے کہا جو مال کی طرف گئے تھے کہ ہم اس کے حق دار ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے آیت ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] نازل کی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں مناسب طریقے سے تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12715]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12716
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَشَيْبَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ:" أَمَّا قَوْلُكَ الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ: أَشَهِدَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَدْرًا؟ فَإِنَّهُ شُغِلَ بِابْنَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی سے کہا: تیری یہ بات جو تو نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ کیا عثمان رضی اللہ عنہ بدر میں حاضر ہوئے تھے؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تیمارداری میں مشغول تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ بھی نکالا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12716]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4066»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ،.
ابوالاسود رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12717]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ تَخَلَّفَ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ وَجِعَةً، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا حَتَّى تُوُفِّيَتْ يَوْمَ قَدِمَ أَهْلُ بَدْرٍ الْمَدِينَةَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ"، قَالَ: وَقَدِمَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ مِنَ الشَّامَ بَعْدَمَا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ:" لَكَ سَهْمُكَ"، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ"، وَقَدِمَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَقْدِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ:" لَكَ سَهْمُكَ"، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ" وَأَبُو لُبَابَةَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَرَجَّعَهُ وَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرٍ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الصَّفْرَاءَ فَأَصَابَ سَاقَهُ حَجَرٌ، فَرَجَعَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّهُ فَرَجَعَ مِنَ الرَّوْحَاءِ، فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَحَدِيثُ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ: رَدَّهُ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ.
اسماعیل بن ابراہیم اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، جو بدر میں حاضر ہوا اور جو پیچھے رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حصہ رکھا۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیچھے رہے تھے اپنی بیوی رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور وہ بیمار تھیں، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں، جس دن اہل بدر مدینہ میں آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نکالا۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اجر ہے“۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ شام سے آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدر سے لوٹنے کے بعد۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حصے کے بارے میں بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے بھی اجر ہے“۔ سعید بن زید رضی اللہ عنہ شام سے آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدر سے لوٹنے کے بعد، انہوں نے بھی کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا حصہ“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر بھی ہے“۔ ابولبابہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بدر میں وہ لوٹ آئے تھے، ان کو مدینہ پر امیر مقرر کیا تھا، ان کے لیے بھی اصحابِ بدر کے ساتھ حصہ رکھا۔ خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے، یہاں تک کہ جب صفراء مقام پر پہنچے تو ان کی پنڈلی پر پتھر لگا وہ بھی لوٹ آئے، ان کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ نکالا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوٹا دیا، اس کے لیے بھی حصہ رکھا۔ حارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، روحاء کے مقام پر ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ان کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ رکھا۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12718]
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12718]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف