🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2652. جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل
باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12779
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو هُوَ الْوَاقِدِيُّ قَالَ: وَقِيلَ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ ضَرَبَ سَاقَيْ مَرْحَبٍ فَقَطَعَهُمَا، فَقَالَ مَرْحَبٌ: أَجْهِزْ عَلَيَّ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: ذُقِ الْمَوْتَ كَمَا ذَاقَهُ أَخِي مَحْمُودٌ، وَجَاوَزَهُ، فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ وَأَخَذَ سَلَبَهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَلَبِهِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا قَطَعْتُ رِجْلَيْهِ وَتَرَكْتُهُ إِلَّا لِيَذُوقَ الْمَوْتَ، وَقَدْ كُنْتُ قَادِرًا أَنْ أُجْهِزَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: صَدَقَ، ضَرَبْتُ عُنُقَهُ بَعْدَ أَنْ قَطَعَ رِجْلَيْهِ،" فَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ سَيْفَهُ وَدِرْعَهُ وَمِغْفَرَهُ وَبَيْضَتَهُ" وَكَانَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ سَيْفُهُ، فِيهِ كِتَابٌ لَا يَدْرِي مَا هُوَ، حَتَّى قَرَأَهُ يَهُودِيٌّ مَنْ يَهُودِ تَيْمَاءَ، فَإِذَا فِيهِ: هَذَا سَيْفُ مَرْحَبٍ، مَنْ يَذُقْهُ يَعْطَبْ.
واقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے مرحب کی پنڈلیوں پر ضرب لگائی، دونوں کو کاٹ دیا۔ مرحب نے کہا: ”اے محمد! مجھے جلدی قتل کر دو۔“ محمد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”موت کا ذائقہ چکھو جیسے میرے بھائی محمود نے چکھا تھا“ اور اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے گزرے، آپ نے اس کی گردن اتار دی اور اس کا سامان لے لیا، وہ دونوں (محمد اور علی رضی اللہ عنہما) اپنا سلب کا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ محمد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں نے ٹانگیں کاٹ کر اس لیے چھوڑا تھا کہ وہ موت کا ذائقہ لے اور تحقیق میں اسے مکمل ختم کرنے پر بھی قادر تھا“، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس نے سچ کہا ہے، میں نے تو صرف اس کی گردن اتاری ہے اس کی ٹانگیں کاٹنے کے بعد۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو مرحب کی تلوار، درع، خود دیا اور آلِ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس وہ تلوار تھی اور اس پر کچھ لکھا ہوا تھا، لیکن کوئی نہ جانتا تھا کہ کیا لکھا ہے یہاں تک کہ تیماء کے ایک یہودی نے اسے پڑھا، اس میں لکھا تھا: ”یہ مرحب کی تلوار ہے جو اسے چھوئے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12779]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12779 in Urdu