السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2660. -- باب: ما جاء في من الإمام على من رأى من الرجال البالغين من أهل الحرب
-- باب: دار الحرب کے بالغ مردوں میں سے امام کا جسے مناسب سمجھے احسان کر کے چھوڑ دینے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12841
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ أَبُو عَزَّةَ الْجُمَحِيُّ أُسِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّنِي ذُو بَنَاتٍ وَحَاجَةٍ، وَلَيْسَ بِمَكَّةَ أَحَدٌ يَفْدِينِي، وَقَدْ عَرَفْتَ حَاجَتِي، فَحَقَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهُ وَأَعْتَقَهُ، وَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَعَاهَدَهُ أَنْ لَا يُعِينَ عَلَيْهِ بِيَدٍ وَلَا لِسَانٍ، وَامْتَدَحَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَفَا عَنْهُ. فَذَكَرَ الشِّعْرَ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهُ مَعَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيِّ، وَإِشَارَةَ صَفْوَانَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ مَعَهُ فِي حَرْبِ أُحُدٍ وَتَكَفُّلَهُ بَنَاتِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَطَاعَهُ، فَخَرَجَ فِي الْأَحَابِيشِ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، قَالَ: فَأُسِرَ أَبُو ⦗٥٢١⦘ عَزَّةَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنْعِمْ عَلَيَّ، خَلِّ سَبِيلِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَحَدَّثُ أَهْلُ مَكَّةَ أَنَّكَ لَعِبْتَ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ"، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ.
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو عزہ الجمحی بدر میں قیدی بنایا گیا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بیٹیوں والا ہوں اور محتاج ہوں اور مکہ میں میرا کوئی ایسا نہیں جو میرا فدیہ دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری حالت پہچانتے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون محفوظ کیا اور اسے آزاد کر دیا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وعدہ لیا کہ وہ ہاتھ اور زبان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مدد نہیں کرے گا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ (پھر ابن اسحاق نے اس کے اشعار ذکر کیے۔) پھر صفوان بن امیہ جمحی کے ساتھ اس کا قصہ ذکر کیا کہ صفوان نے اسے احد کی جنگ میں اپنے ساتھ نکلنے کا مشورہ دیا اور اس کی بیٹیوں کی کفالت کا ذمہ لیا اور وہ اسے مسلسل کہتا رہا یہاں تک کہ اس نے اس کی بات مان لی اور بنی کنانہ کے احابیش کے ساتھ نکلا۔ پھر ابو عزہ احد کے دن قیدی بنا لیا گیا، جب اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس نے کہا: ”میرے اوپر انعام کریں، میرا راستہ چھوڑ دیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تاکہ مکہ والے باتیں نہ کریں کہ تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ دو دفعہ کھیلا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12841]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12841 in Urdu