السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2661. -- باب: ما جاء في مفاداة الرجال منهم بمن أسر منا
-- باب: دشمن کے مردوں کو اپنے قیدیوں کے تبادلے میں فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ح، وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمَرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَسَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَقِيلٍ فَأَوْثَقُوهُ فَطَرَحُوهُ فِي الْحَرَّةِ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مَعَهُ، أَوْ قَالَ: أَتَى عَلَيْهِ عَلَى حِمَارٍ، وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟" قَالَ: فِيمَا أُخِذْتُ؟ قَالَ:" أُخِذْتَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ" وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، قَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟" قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، قَالَ:" لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ"، قَالَ: وَتَرَكَهُ وَمَضَى، قَالَ: فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَرَجَعَ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟" فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَشْبِعْنِي، وَحَسِبَهُ قَالَ: إِنِّي عَطْشَانُ فَاسْقِنِي، قَالَ:" هَذِهِ حَاجَتُكَ"، فَفَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْهُمَا ثَقِيفٌ لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بنی عقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنایا، اسے باندھ کر حرہ نامی پتھریلی زمین میں پھینک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، ہم بھی پاس تھے یا (راوی نے) کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہو کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے مخمل کی چادر تھی۔ اس نے پکارا: اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: مجھے کیوں پکڑا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے حلیف ثقیف کے جرم میں تجھے پکڑا گیا ہے اور ثقیف نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے دو آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔“ اس نے کہا: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا (یعنی گرفتاری سے پہلے) تو تو مکمل کامیابی پا لیتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہیں چھوڑا اور چلے گئے، اس نے پھر پکارا: اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ کر پوچھا: ”کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلائیں اور میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ضرورت ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فدیہ میں ان دو آدمیوں کو لیا جو ثقیف نے قیدی بنائے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12842]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1614»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12842 in Urdu