السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2678. -- باب: المملوك والمرأة يرضخ لهما ولا يسهم
-- باب: غلام اور عورت کو مالِ غنیمت میں سے کچھ انعام دیا جائے گا لیکن ان کا باقاعدہ حصہ مقرر نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 12914
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْهِمْ لِي، فَأَعْطَانِي سَيْفًا فَقَالَ:" تَقَلَّدْ هَذَا السَّيْفَ"، وَأَعْطَانِي خُرْثِيَّ مَتَاعٍ، وَلَمْ يُسْهِمْ لِي ⦗٥٤١⦘ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدِيثًا آخَرَ فِي الزَّكَاةِ، وَهَذَا الْمَتْنُ أَيْضًا صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ.
ابی اللحم کے غلام عمیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں خیبر میں حاضر ہوا اور میں غلام تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بھی حصہ دیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تلوار دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس تلوار کو لٹکاؤ“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ردی سامان دے دیا اور مجھے حصہ نہ دیا۔
امام مسلم نے اسی سند سے زکاۃ کے بارے میں ایک دوسری حدیث نقل کی ہے، اور یہ متن بھی ان کی شرط پر صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12914]
امام مسلم نے اسی سند سے زکاۃ کے بارے میں ایک دوسری حدیث نقل کی ہے، اور یہ متن بھی ان کی شرط پر صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12914]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12914 in Urdu