السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2678. -- باب: المملوك والمرأة يرضخ لهما ولا يسهم
-- باب: غلام اور عورت کو مالِ غنیمت میں سے کچھ انعام دیا جائے گا لیکن ان کا باقاعدہ حصہ مقرر نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 12915
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: أنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَادِسَ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا، فَجِئْنَا فَرَأَيْنَا فِيهِ الْغَضَبَ، فَقَالَ:" مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعْرَ، وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَعَنَا دَوَاءٌ لِلْجَرْحَى، وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ، وَنَسْقِي السَّوِيقَ، فَقَالَ:" أَقِمْنَ". حَتَّى إِذَا فَتْحَ اللهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ أَسْهَمَ لَنَا كَمَا أَسْهَمَ لِلرِّجَالِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: يَا جَدَّةُ، وَمَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: تَمْرًا قَالَ الشَّيْخُ: إِخْبَارُهَا عَنْ عَيْنِ مَا أَعْطَاهُنَّ دَلَالَةٌ عَلَى كَوْنِهِ رَضْخًا. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمْ يُضْرَبْ لَهُنَّ سَهْمٌ، بَيَانُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِيَ عَنْ مَكْحُولٍ وغَيْرِهِ فِي الْإِسْهَامِ لَهُنَّ بِخَيْبَرَ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.
حشرج بن زیاد اپنی دادی رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں گئیں۔ یہ چھ عورتوں میں چھٹی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف پیغام بھیجا کہ ان کو بلاؤ۔ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غصہ دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس کے ساتھ نکلی ہو اور کس کی اجازت سے نکلی ہو؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نکلیں تاکہ ہم سوت کاتیں اور اس کے ساتھ اللہ کے راستے میں مدد کریں، ہمارے پاس زخموں کے لیے دوا ہے، ہم تیر پکڑائیں گی اور ستو پلائیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ٹھہری رہو۔“ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر پر فتح عطا فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی حصہ دیا جیسے مردوں کو دیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دادی سے پوچھا: اے دادی! وہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کھجوریں۔
شیخ فرماتے ہیں: اس خبر میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیا وہ بطور انعام تھا، ان کے لیے حصہ نہ نکالا۔
مکحول وغیرہ سے خیبر میں ان کے لیے حصہ نکالنے کی روایت بھی بیان کی گئی ہے، لیکن وہ منقطع ہے، اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12915]
شیخ فرماتے ہیں: اس خبر میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیا وہ بطور انعام تھا، ان کے لیے حصہ نہ نکالا۔
مکحول وغیرہ سے خیبر میں ان کے لیے حصہ نکالنے کی روایت بھی بیان کی گئی ہے، لیکن وہ منقطع ہے، اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12915]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12915 in Urdu