السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2732. -- باب: لا وقت فيما يعطى الفقراء والمساكين إلى ما يخرجون به من الفقر والمسكنة
-- باب: فقراء اور مساکین کو دینے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے یہاں تک کہ وہ فقر اور مسکینی سے نکل جائیں
حدیث نمبر: 13213
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ⦗٤٠⦘ الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ لَهُ: انْطَلِقْ حَتَّى تَجِدَ مِنْ شَيْءٍ قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا الْحِلْسُ كَانُوا يَفْتَرِشُونَ بَعْضَهُ وَيَلْبِسُونَ بَعْضَهُ، وَهَذَا الْقَدَحُ كَانُوا يَشْرَبُونَ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَأْخُذُهُمَا مِنِّي بِدِرْهَمٍ؟"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِاثْنَيْنِ، فَقَالَ:" هُمَا لَكَ" قَالَ: فَدَعَا الرَّجُلَ، فَقَالَ لَهُ:" اشْتَرِ بِدِرْهَمٍ فَأْسًا وَبِدِرْهَمٍ طَعَامًا لِأَهْلِكَ" قَالَ: فَفَعَلَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْطَلِقْ إِلَى هَذَا الْوَادِي، فَلَا تَدَعْ حَاجًّا وَلَا شَوْكًا وَلَا حَطَبًا وَلَا تَأْتِينِي خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا" قَالَ: فَانْطَلَقَ فَأَصَابَ عَشَرَةً قَالَ:" فَانْطَلِقْ فَاشْتَرِ بِخَمْسَةٍ طَعَامًا لِأَهْلِكَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ بَارَكَ اللهُ لِي فِيمَا أَمَرْتَنِي، فَقَالَ:" هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي وَجْهِكَ نُكْتَةُ الْمَسْأَلَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ فَقْرٍ مُفْقِعٍ" قَالَ الشَّيْخُ فَإِنْ لَمْ تَقَعْ لَهُ الْكِفَايَةُ إِلَّا بِمِائَتَيْنِ أَوْ بِأُلُوفٍ أُعْطِيَ قَدْرَ أَقَلِّ الْكِفَايَةِ بِدَلِيلِ مَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَتَّى تُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ" وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور فاقہ کی شکایت کی، پھر وہ لوٹ گیا۔ راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: ”چلو یہاں تک کہ تو کوئی چیز لے آ جو تو پائے۔“ راوی کہتا ہے کہ وہ چلے حتیٰ کہ ایک چادر اور ایک پیالہ لایا گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اس چادر کو بعض بچھاتے اور بعض پہنتے تھے اور یہ پیالہ اس میں سے وہ پیتے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے کون ایک درہم میں یہ خریدے گا؟“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اس کو خریدوں گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم سے زیادہ کی کون خرید لے گا؟“ تو اس نے کہا: میں اس کو دو درہم میں خریدوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو بلایا اور فرمایا: ”ایک درہم کا کلہاڑا خرید اور ایک درہم کا اپنے گھر والوں کے لیے کھانا خرید۔“ راوی کہتا ہے کہ اس آدمی نے ایسا کیا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”اس وادی میں چلے جاؤ اور اس میں سے لکڑیاں وغیرہ کاٹو اور محنت کرو اور میرے پاس پندرہ دنوں کے بعد آنا۔“ پھر وہ چلا گیا، اس نے دس درہم پائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: ”پانچ درہم کا اپنے اہل کے لیے کھانا خریدو۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں برکت دی ہے جس کا آپ نے مجھے حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے لیے بہتر ہے اس سے کہ تو قیامت والے دن آئے اور تیرے چہرے پر سوال کرنے کی وجہ سے نشانات ہوں۔ بے شک سوال کرنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: ہلاکت والے خون، بڑی چٹی اور بے انتہا فقر والے کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13213]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13213 in Urdu