🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2738. -- باب: لا يأخذون من سهم العاملين بالعمالة شيئا
-- باب: وہ صدقہ وصول کرنے والوں کے حصے میں سے اجرت کے طور پر کچھ نہیں لیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13239
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ قَالَ: اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَا: لَوْ بَعَثْنَا بِهَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ، قَالَ لِي وَلِلْفَضْلِ: إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَاهُ فَأَمَرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ، فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ إِذْ دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا فَذَكَرَا لَهُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تَفْعَلَا، فَوَاللهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ، فَانْتَحَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا تَصْنَعُ هَذَا إِلَّا نَفَاسَةً مِنْكَ عَلَيْنَا، فَوَاللهِ لَقَدْ نِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَفِسْنَاهُ، قَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ، أَرْسَلُوهُمَا، فَانْطَلَقَا فَاضْطَجَعَ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى جَاءَ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا، ثُمَّ قَالَ: أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ، ثُمَّ دَخَلَ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَتَوَاكَلْنَا الْكَلَامَ، ثُمَّ تَكَلَّمَ أَحَدُنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْتَ آمَنُ النَّاسِ وَأَوْصَلُ النَّاسِ، وَقَدْ بَلَغْنَا النِّكَاحَ، فَجِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى بَعْضِ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَنُؤَدِّيَ إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَنُصِيبُ كَمَا يُصِيبُ النَّاسُ، فَسَكَتَ طَوِيلًا، فَأَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ وَجَعَلَتْ زَيْنَبُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُلْمِعُ إِلَيْنَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ أَنْ لَا تُكَلِّمَاهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ ⦗٥٠⦘ النَّاسِ، ادْعُو لِي مَحْمِيَةَ، وَكَانَ عَلَى الْخُمُسِ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ" فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ:" أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ" لِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ:" أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ" لِي، فَأَنْكَحَنِي، وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ:" أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ كَذَا وَكَذَا" قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ يُسَمِّهِ لِي، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.
سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ربیعہ بن حارث اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ اگر ہم ان دو بچوں یعنی مجھے اور فضل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صدقات پر عامل مقرر کر دیں، تو جو کام لوگ کرتے ہیں وہ بھی کریں اور جو حصہ لوگوں کو ملتا ہے وہ انہیں بھی ملے، وہ ابھی یہ باتیں کر رہے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے بات کی تو انہوں نے کہا: ”ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم! وہ کرنے والا کام نہیں“، سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اللہ کی قسم! تم یہ صرف ہم سے حسد کی وجہ سے کر رہے ہو، اللہ کی قسم! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد بنے تو ہم نے تم سے حسد نہیں کیا“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں ابوالحسن، قوم کا سردار ہوں، انہیں بھیج دو“، تو وہ دونوں چلے گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا دی تو ہم جلدی سے حجرہ کے پاس چلے گئے اور وہاں کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کانوں سے پکڑ کر فرمایا: ”اپنا ارادہ ظاہر کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہوئے، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ہم نے کلام کرنے کا ارادہ کیا، ہم میں سے ایک نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ لوگوں میں سب سے زیادہ امانت دار اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں، ہم جوان ہو چکے ہیں، ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں صدقات پر کسی کام پر لگا دیں تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ مال لے کر آئیں گے جو لوگ لے کر آتے ہیں اور ہمیں بھی وہ حصہ مل جائے جو لوگوں کو ملتا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ہم نے دوبارہ بولنے کا ارادہ کیا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ہمیں پردہ کے پیچھے سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک صدقہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز نہیں، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمیہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا، ان کی ذمہ داری خمس پر تھی، اور سیدنا نوفل بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کو بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس نوجوان فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی شادی اپنی بیٹی سے کر دو“ تو اس نے شادی کر دی، اور سیدنا نوفل بن حارث رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اس نوجوان کی شادی اپنی بیٹی سے کر دو“ (جو میرے لیے تھی) تو اس نے میری شادی کر دی، پھر سیدنا محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انہیں خمس سے اتنا اتنا دے دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13239]
تخریج الحدیث: «مسلم 1072»

الحكم على الحديث: مسلم 1072

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13239 in Urdu