🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2756. -- باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى
-- باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي اعْتِزَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ فَجَلَسْتُ، فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارُهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَنَظَرْتُ فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِهَا قَرَظٍ فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ، وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ قَالَ: فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَالِي لَا ⦗٧٤⦘ أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا، إِلَّا مَا أَرَى وَذَلِكَ قَيْصَرُ وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللهِ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُهُ، فَقَالَ:" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ" أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا؟" قُلْتُ: بَلَى وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ:" أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر آپ کی چادر تھی اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا اور چٹائی کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر پڑگئے تھے۔ میں نے نگاہ دوڑائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی الماری میں چند جو تھے جو تقریباً ایک صاع تھے اور اس کے برابر سلم کے تھے ایک کمرے کے کونے میں پڑے ہوئے تھے اور کچا چمڑا بھی لٹکا ہوا تھا۔
میری آنکھیں بہہ پڑیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کس چیز نے رونے پر مجبور کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیوں نہ روؤں، یہ چٹائی کے نشانات اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی الماری میں کچھ نہیں دیکھا (وہ بھی خالی ہے) قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہو کر بھی اتنی سادگی میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ یہ سب چیزیں ہمارے لیے آخرت میں ہوں اور ان کے لیے دنیا میں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13305]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1479»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13305 in Urdu