السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2756. -- باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى
-- باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
حدیث نمبر: 13306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا سَرَّنِي أَنْ يَأْتِيَ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر احد پہاڑ میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو یہ بات مجھے اچھی نہیں لگے گی کہ تین راتیں گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے کچھ (باقی) ہو، سوائے اس کے جو میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ چھوڑا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13306]
تخریج الحدیث: «بخاري 2389۔ مسلم 991»
الحكم على الحديث: بخاري 2389
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13306 in Urdu