السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2756. -- باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى
-- باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
حدیث نمبر: 13314
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا أَكَلَ ⦗٧٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَائِدَةٍ قَطُّ، وَلَا أَكَلَ خُبْزَ رِقَاقٍ قَطُّ، وَلَا اصْطَبَغَ فِي سُكُرُجَةٍ قَطُّ قَالَ: فَقِيلَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ فَعَلَى أِيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میز (خوان) پر کبھی بھی کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی میدے کی روٹی کھائی ہے اور نہ ہی کبھی چھوٹی پیالی میں سالن ڈال کر کھایا۔ ان سے پوچھا گیا: اے ابو حمزہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھانا کھاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: چٹائی پر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13314]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13314 in Urdu