السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2756. -- باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى
-- باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
حدیث نمبر: 13315
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كُنَّا نُخْرِجُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ فَنَأْكُلُهُ، فَقُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم بکری کی پنڈلی کا گوشت پندرہ دن بعد نکالتے تھے اور ہم اسے کھاتی تھیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتی تھیں؟ تو وہ ہنس پڑیں اور فرمایا: آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن پیٹ بھر کر سالن کے ساتھ روٹی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل سے جا ملے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13315]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5570۔ مسلم 1971»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13315 in Urdu