🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2853. جماع أبواب اجتماع الولاة، وأولاهم، وتفرقهم، وتزويج المغلوبين على عقولهم والصبيان وغير ذلك -- باب: لا ولاية لأحد مع أب
یہ جامع ابواب ہیں جن میں اولیاء کے جمع ہونے، ان میں ولایت کے سب سے زیادہ حق دار ہونے، ان کے باہمی اختلاف، ان لوگوں کے نکاح کرانے جن کی عقل زائل ہو چکی ہو، بچوں کے نکاح کرانے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: اس بیان میں کہ باپ کی موجودگی میں کسی اور شخص کو ولایت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13746
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَيَّاشٌ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ، وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ عَنْ أَنْ يُزَوِّجَهُ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا، فَدَعَتْ أَبَاهَا وَنَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِأَبِيهَا: إِنَّ مُحَمَّدًا يَخْطُبُنِي، فَزَوِّجْهُ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَخَلَّقَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً، وَكَانُوا يَصْنَعُونَ بِالْآبَاءِ إِذَا زَوَّجُوا بَنَاتَهُمْ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ السُّكْرُ نَظَرَ، فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ، فَقَالَ مَا شَأْنِي؟ قَالَتْ: زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ؟ فَقَالَ: لَا لَعَمْرِي، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: أَمَا تَسْتَحِي تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ.
عمار بن ابی عمار حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حماد کا گمان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا، لیکن ان کے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شادی کرنے سے بے رغبت تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کھانے پینے کا اہتمام کیا اور اپنے والد اور قریبیوں کے ایک گروہ کو دعوت دی۔ جب انہوں نے کھا پی لیا اور مدہوش ہو گئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا: محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے، آپ میری شادی کر دیں، تو ان کے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کر دی، تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد کو خوشبو لگائی اور حلہ پہنایا۔ یہ اس وقت کرتے تھے جب والد اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے تھے۔ جب ان کے والد سے نشے کی کیفیت ختم ہوئی تو انہوں نے اپنے اوپر خوشبودار حلہ دیکھا تو کہنے لگے: میری یہ کیا حالت ہے؟ تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی: آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کر دی ہے۔ انہوں نے کہا: میں ابوطالب کے یتیم سے شادی کروں گا؟ نہیں، میری عمر کی قسم! حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: کیا آپ کو اس بات سے حیا نہیں آتی کہ آپ قریشیوں کے نزدیک بیوقوف ٹھہریں کہ آپ لوگوں کو اس بات کی خبر دیں کہ آپ نشہ کی حالت میں تھے؟ وہ یہی بات بار بار ان کو کہتی رہیں یہاں تک کہ انہوں نے اقرار کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13746]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13746 in Urdu