السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2853. جماع أبواب اجتماع الولاة، وأولاهم، وتفرقهم، وتزويج المغلوبين على عقولهم والصبيان وغير ذلك -- باب: لا ولاية لأحد مع أب
یہ جامع ابواب ہیں جن میں اولیاء کے جمع ہونے، ان میں ولایت کے سب سے زیادہ حق دار ہونے، ان کے باہمی اختلاف، ان لوگوں کے نکاح کرانے جن کی عقل زائل ہو چکی ہو، بچوں کے نکاح کرانے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: اس بیان میں کہ باپ کی موجودگی میں کسی اور شخص کو ولایت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13747
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ذَكَرَ قِصَّةَ تَزْوِيجِ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَذَكَرَتْ أَنَّهَا كَلَّمَتْ أَخَاهُ، فَكَلَّمَ أَبَاهُ، وَقَدْ سُقِيَ خَمْرًا، فَذَكَرَ لَهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَكَانَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يُزَوِّجَهُ خَدِيجَةَ، فَزَوَّجَهُ خَدِيجَةَ، وَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ صَاحِيًا، ⦗٢١٠⦘ فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ زَوَّجَهُ، فَقَالَ: أَيْنَ صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَزْعُمُونَ أَنِّي زَوَّجْتُهُ، فَبَرَزَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ: إِنْ كُنْتُ زَوَّجْتُهُ فَسَبِيلُ ذَلِكَ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ فَقَدْ زَوَّجْتُهُ" وَرُوِّينَا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ خَدِيجَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَنْكَحَهُ إِيَّاهَا أَبُوهَا خُوَيْلِدُ بْنُ أَسَدٍ.
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا قصہ ذکر کیا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی سے بات کی اور انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے شراب پی رکھی تھی۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مرتبہ کا تذکرہ کیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کردی۔ پھر سو گئے، پھر ہوش کی حالت میں بیدار ہوئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے انکار کردیا۔ پھر کہنے لگا: تمہارا وہ صاحب کہاں ہے کہ جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے کہ میں نے اس سے شادی کردی ہے؟ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سامنے آئے تو اس نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے: اگر میں نے شادی کردی ہے تو درست، اگر نہیں کی تو اب میں نے شادی کردی ہے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے زمانہ جاہلیت میں نکاح کیا اور ان کا نکاح ان کے والد خویلد بن اسد نے کروایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13747]
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے زمانہ جاہلیت میں نکاح کیا اور ان کا نکاح ان کے والد خویلد بن اسد نے کروایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13747]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13747 in Urdu