السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2853. جماع أبواب اجتماع الولاة، وأولاهم، وتفرقهم، وتزويج المغلوبين على عقولهم والصبيان وغير ذلك -- باب: لا ولاية لأحد مع أب
یہ جامع ابواب ہیں جن میں اولیاء کے جمع ہونے، ان میں ولایت کے سب سے زیادہ حق دار ہونے، ان کے باہمی اختلاف، ان لوگوں کے نکاح کرانے جن کی عقل زائل ہو چکی ہو، بچوں کے نکاح کرانے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: اس بیان میں کہ باپ کی موجودگی میں کسی اور شخص کو ولایت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13749
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، أَخْبَرَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ ⦗٢١١⦘ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ لَقِيَنِي، فَقَالَ: قَدْ بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلِيَّ شَيْئًا، فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ، فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ عَلَيَّ، إِلَّا أَنِّي قَدْ كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَ حَفْصَةَ فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبِلْتُهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما جب بیوہ ہوئیں، خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور بدری تھے) کی مدینہ میں وفات کی وجہ سے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر اپنی بیٹی کو پیش کیا (یعنی نکاح کا کہا)۔ میں نے کہا: ”اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔“ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اپنے معاملہ میں سوچ و بچار کر لوں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں چند دن ٹھہرا رہا، پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہہ دیا کہ: ”میں آج کے دن شادی نہ کروں گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا: ”اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے، مجھے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اپنے اندر غم پایا۔ چند دنوں کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کا پیغام دے دیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح کر دیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور فرمانے لگے: ”آپ کو پریشانی ہوتی ہوگی جب آپ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش کیا اور میں نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ہاں۔“ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”مجھے کسی چیز نے بھی جواب سے نہ روکا تھا جب آپ نے نکاح کے لیے کہا، البتہ میں یہ جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کا تذکرہ کیا تھا، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر کرنا نہ چاہتا تھا، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیتے تو میں قبول کر لیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13749]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4145۔ 4005۔ 5122۔ 5129»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13749 in Urdu