السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2863. -- باب: اعتبار اليسار في الكفاءة
-- باب: کفاءت میں مال داری (وسعت) کا اعتبار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 13774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ، فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ"، فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے اپنی عدم موجودگی میں طلاقِ بتہ دے دی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ جب میں حلال ہو گئی (یعنی عدت پوری ہو گئی) تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا کہ سیدنا معاویہ اور سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو جہم اپنے کندھے سے عصا نہیں اتارتا (یعنی وہ ہاتھ مارتا ہے یا سفروں میں رہتا ہے) اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، آپ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیں۔“ وہ کہتی ہیں: میں نے اس کو ناپسند کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کر لو۔“ میں نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈال دی اور مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13774]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1480»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13774 in Urdu