🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2918. -- باب: الزوجين الوثنيين يسلم أحدهما فالجماع ممنوع حتى يسلم المتخلف منهما
-- باب: دو بت پرست میاں بیوی کا بیان جن میں سے کوئی ایک اسلام لے آئے تو ان کے درمیان ہم بستری ممنوع ہے یہاں تک کہ پیچھے رہ جانے والا (دوسرا شریکِ حیات) بھی اسلام لے آئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q14061
لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ.
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ”نہ وہ (مومن عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہیں۔“ [سورة الممتحنة: 10]
اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”اور کافر عورتوں کی ناموس (نکاح) کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔“ [سورة الممتحنة: 10] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14061]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14061
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ خُرُوجِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ خَلْفَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: فَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَرَخَتْ زَيْنَبُ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَتْ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ زَيْنَبَ، فَقَالَ:" أَيْ بُنَيَّةُ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَلَا يَخْلُصَنَّ إِلَيْكِ، فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ".
ابن اسحاق ابو العاص بن ربیع جو شرک کی حالت میں نکلے، ان کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا مدینہ میں تھیں، کہتے ہیں کہ یزید بن رومان عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آواز لگائی: ”اے لوگو! میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دی ہے“، اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے بیٹی! تو اس کو اچھا ٹھکانا دے، لیکن یہ تمہارے اوپر داخل نہ ہو؛ کیونکہ تو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔“ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14061]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14061 in Urdu