السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2929. -- باب: الاستمناء
-- باب: مشت زنی (اپنے ہاتھ سے منی خارج کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 14133
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَجْلَحُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ غُلَامًا أَتَاهُ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَقُومُونَ وَالْغُلَامُ جَالِسٌ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: قُمْ يَا غُلَامُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: دَعُوهُ شَيْءٌ مَا أَجْلَسَهُ، فَلَمَّا خَلَا قَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي غُلَامٌ شَابٌّ أَجِدُ غِلْمَةً شَدِيدَةً فَأَدْلُكُ ذَكَرِي حَتَّى أُنْزِلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" خَيْرٌ مِنَ الزِّنَا، وَنِكَاحُ الْأَمَةِ خَيْرٌ مِنْهُ".
ابوزبیر، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک غلام ان کے پاس آیا، لوگ جانے لگے تو وہ بیٹھا رہا، تو کچھ لوگوں نے کہا: اے غلام! جاؤ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اس کو چھوڑ دو، اس کو کسی چیز نے بٹھا رکھا ہے۔ جب لوگ چلے گئے تو غلام کہنے لگا: اے ابن عباس! میں نوجوان غلام ہوں، میں شدید قسم کا جوش پاتا ہوں، میں اپنے ذکر کو ملتا رہا یہاں تک کہ انزال ہو گیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ زنا سے بہتر ہے اور لونڈی سے نکاح اس سے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14133]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14133 in Urdu