🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2945. -- باب: الزوجان يختلفان في الإصابة فيكون القول قوله إن كان ثيبا
-- باب: اس بیان میں کہ میاں بیوی کے درمیان ہم بستری ہونے میں اختلاف ہو جائے، تو شوہر کی بات مانی جائے گی بشرطیکہ وہ (پہلے سے) شادی شدہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q14301
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهَا تُرِيدُ فَسْخَ نِكَاحِهِ، وَعَلَيْهِ الْيَمِينُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ (عورت) اس کا نکاح فسخ کرانا چاہتی ہے، اور (اس صورت میں) قسم اس (شوہر) پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14301]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14301
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا خِمَارٌ أَخْضَرُ فَشَكَتْ إِلَيْهَا زَوْجَهَا وَأَرَتْهَا ضَرْبًا بِجِلْدِهَا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَالَتْ: مَا تَلْقَاهُ نِسَاءُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ، وَقَالَتْ لَلَّذِي يَجْلِدُهَا أَشَدُّ خُضْرَةً مِنْ خِمَارِهَا قَالَ عِكْرِمَةُ: وَالنِّسَاءُ يَنْصُرُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا، وَجَاءَ الرَّجُلُ فَقَالَتْ: مَا الَّذِي عِنْدَهُ بِأَغْنَى عَنِّي مِنْ هَذَا، وَقَالَتْ بِطَرَفِ ثَوْبِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ إِنِّي لَأَنْفُضُهَا نَفْضَ الْأَدِيمِ، وَلَكِنَّهَا نَاشِزٌ تُرِيدُ رِفَاعَةَ وَكَانَ رِفَاعَةُ زَوْجَهَا قَدْ طَلَّقَهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولِينَ لَمْ تَحِلِّي لَهُ حَتَّى يَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِكِ وَتَذُوقِي مِنْ عُسَيْلَتِهِ".
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اس پر سبز اوڑھنی تھی۔ اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی اور اپنی جلد پر مار کا نشان بھی دکھایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور کہنے لگیں کہ مسلمان عورتوں کو ان کے خاوندوں سے اتنی تکلیف آتی ہے اور فرمانے لگیں کہ اس کی جلد پر اس کی اوڑھنی سے بھی زیادہ سبز داغ تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور جب مرد بھی آگیا تو عورت نے کہہ دیا کہ جو اس کے پاس ہے وہ مجھ سے بے پروا ہے (یعنی میری حاجت پوری نہیں کرتا) اور اپنے کپڑے کے سرے کو پکڑ کر کہنے لگی: اس طرح ہے اور مرد کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں اس کو اس طرح چھانٹتا ہوں جیسے چمڑے کو چھانٹا جاتا ہے، لیکن یہ نافرمانی کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ رفاعہ کا ارادہ رکھتی ہے جس نے پہلے اس کو طلاق دے دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر بات ایسے ہے تو پھر تیرے لیے جائز نہیں یہاں تک کہ تو اس کا مزہ چکھ لے اور وہ تیرا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5825»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14301 in Urdu