السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2945. -- باب: الزوجان يختلفان في الإصابة فيكون القول قوله إن كان ثيبا
-- باب: اس بیان میں کہ میاں بیوی کے درمیان ہم بستری ہونے میں اختلاف ہو جائے، تو شوہر کی بات مانی جائے گی بشرطیکہ وہ (پہلے سے) شادی شدہ ہو۔
حدیث نمبر: Q14301
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهَا تُرِيدُ فَسْخَ نِكَاحِهِ، وَعَلَيْهِ الْيَمِينُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ (عورت) اس کا نکاح فسخ کرانا چاہتی ہے، اور (اس صورت میں) قسم اس (شوہر) پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: Q14301]
حدیث نمبر: 14301
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا خِمَارٌ أَخْضَرُ فَشَكَتْ إِلَيْهَا زَوْجَهَا وَأَرَتْهَا ضَرْبًا بِجِلْدِهَا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَالَتْ: مَا تَلْقَاهُ نِسَاءُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ، وَقَالَتْ لَلَّذِي يَجْلِدُهَا أَشَدُّ خُضْرَةً مِنْ خِمَارِهَا قَالَ عِكْرِمَةُ: وَالنِّسَاءُ يَنْصُرُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا، وَجَاءَ الرَّجُلُ فَقَالَتْ: مَا الَّذِي عِنْدَهُ بِأَغْنَى عَنِّي مِنْ هَذَا، وَقَالَتْ بِطَرَفِ ثَوْبِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ إِنِّي لَأَنْفُضُهَا نَفْضَ الْأَدِيمِ، وَلَكِنَّهَا نَاشِزٌ تُرِيدُ رِفَاعَةَ وَكَانَ رِفَاعَةُ زَوْجَهَا قَدْ طَلَّقَهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولِينَ لَمْ تَحِلِّي لَهُ حَتَّى يَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِكِ وَتَذُوقِي مِنْ عُسَيْلَتِهِ".
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اس پر سبز اوڑھنی تھی۔ اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی اور اپنی جلد پر مار کا نشان بھی دکھایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور کہنے لگیں کہ مسلمان عورتوں کو ان کے خاوندوں سے اتنی تکلیف آتی ہے اور فرمانے لگیں کہ اس کی جلد پر اس کی اوڑھنی سے بھی زیادہ سبز داغ تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور جب مرد بھی آگیا تو عورت نے کہہ دیا کہ جو اس کے پاس ہے وہ مجھ سے بے پروا ہے (یعنی میری حاجت پوری نہیں کرتا) اور اپنے کپڑے کے سرے کو پکڑ کر کہنے لگی: اس طرح ہے اور مرد کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں اس کو اس طرح چھانٹتا ہوں جیسے چمڑے کو چھانٹا جاتا ہے، لیکن یہ نافرمانی کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ رفاعہ کا ارادہ رکھتی ہے جس نے پہلے اس کو طلاق دے دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر بات ایسے ہے تو پھر تیرے لیے جائز نہیں یہاں تک کہ تو اس کا مزہ چکھ لے اور وہ تیرا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5825»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14302
أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّاهِرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَكَرَتْ أَنَّ زَوْجَهَا لَا يَصِلُ ⦗٣٧٢⦘ إِلَيْهَا فَسَأَلَ الرَّجُلَ قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ وَكَتَبَ فِيهِ إِلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَكَتَبَ أَنْ زَوِّجْهُ امْرَأَةً مِنْ بَيْتِ الْمَالِ لَهَا حَظٌّ مِنْ جَمَالٍ وَدِينٍ فَإِنْ زَعَمَتْ أَنَّهُ يَصِلُ إِلَيْهَا فَاجْمَعْ بَيْنَهُمَا وَإِنْ زَعَمَتْ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا فَفَرِّقْ بَيْنَهُمَا، قَالَ: نَفْعَلُ وَأَتَى بِهِمَا عِنْدَهُ فِي الدَّارِ قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ دَخَلَ النَّاسُ وَدَخَلَتْ قَالَ: فَجَاءَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا فَعَلْتَ قَالَ: فَعَلْتُ وَاللهِ حَتَّى خَضْخَضْتُهُ فِي الثَّوْبِ مِنْ وَرَائِهَا قَالَ: وَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ مُتَقَنِّعَةً فَقَامَتْ عِنْدَ رِجْلِهِ قَالَ: فَسَأَلَهَا وَعَظُمَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: لَا شَيْءَ، فَقَالَ: أَمَا يَنْتَشِرُ أَمَا يَدْنُو قَالَتْ: بَلَى وَلَكِنَّهُ إِذَا دَنَا جَاءَ شَرُّهُ، فَقَالَ سَمُرَةُ خَلِّ سَبِيلَهَا يَا مُخَضْخَضُ"، هَذَا رَأْيٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ يَكُونُ الرَّجُلُ عِنِّينًا مِنِ امْرَأَةٍ وَلَا يَكُونُ عِنِّينًا مِنْ أُخْرَى، وَمُتَابَعَةُ السُّنَّةِ أَوْلَى، وَقَدْ قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْيَمِينِ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، وَالزَّوْجُ يُنْكِرُ مَا يُدَّعَى عَلَيْهِ مِنَ الْعُنَّةِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ قَالَ: مَا زِلْنَا نَسْمَعُ أَنَّهُ إِذَا أَصَابَهَا مَرَّةً فَلَا كَلَامَ لَهَا وَلَا خُصُومَةَ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ طَاوُسٍ، وَالْحَسَنِ، وَالزُّهْرِيِّ.
عیینہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، اس نے تذکرہ کیا کہ میرا خاوند دخول کے قابل نہیں ہے، جب سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے مرد سے پوچھا تو اس نے انکار کر دیا، انہوں نے اس بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو انہوں نے جواب لکھا کہ بیت المال (کے خرچ) سے اس (مرد) کی شادی کسی ایسی عورت سے کر دو جو خوبصورتی اور دین داری والی ہو، اگر وہ کہے کہ یہ دخول کے قابل ہے تو ان دونوں کو جمع کر دینا، اور اگر وہ کہے کہ یہ اس قابل نہیں ہے تو ان کے درمیان تفریق کر دینا، راوی کہتے ہیں کہ وہ ان کے گھر آئے تو لوگ داخل ہوئے تو میں بھی داخل ہوا، مرد آیا تو اس پر زردی کے نشانات تھے تو اس سے کہا کہ تو نے کیا کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ میں نے کپڑے میں اس کے پیچھے سے بہت حرکت دی ہے، راوی کہتے ہیں کہ عورت اس کے پاؤں کے پاس کھڑی ہو گئی، جب اس نے اس سے سوال کیا تو کہنے لگی: یہ کچھ بھی نہیں ہے، تو سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس میں انتشار نہیں ہوتا؟ کیا وہ قریب نہیں آتا؟ عورت کہنے لگی: کیوں نہیں، لیکن وہ جب بھی قریب آتا ہے تو شر ہی لاتا ہے، تو سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حرکت دینے والے! تو اس کا راستہ چھوڑ دے، یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے ہے اور کبھی ایک عورت سے تو نامرد ہوتا ہے لیکن دوسری کے لیے نہیں، اور سنت کی پیروی میں بہتری ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کا فیصلہ فرمایا جو انکار کرے اور خاوند نامردی کے دعوے کو نہیں مانتا، اور سیدنا عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب ایک مرتبہ جماع کر لے تو پھر اس میں کوئی جھگڑا اور کلام نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14302]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف