السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3028. -- باب: كراهية كفرانها معروف زوجها
-- باب: عورت کے اپنے شوہر کے احسان کی ناشکری کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ الْخَوْفِ:" فَأُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ" قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" ⦗٤٨٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خسوف کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مجھے جہنم دکھائی گئی تو میں نے اس سے بڑھ کر گھبراہٹ والا منظر کوئی نہ دیکھا تھا اور میں نے جہنم میں زیادہ عورتیں دیکھیں۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی ناشکری کی وجہ سے۔“ کہا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خاوندوں اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر آپ ان پر احسان کرتے رہے، پھر کبھی آپ کی جانب سے تکلیف پہنچ جائے، وہ کہہ دیتی ہیں کہ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی پائی ہی نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14719 in Urdu