السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3034. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان مکمل عدل کر سکو، خواہ تم کتنا ہی چاہو، پس تم کسی ایک کی طرف اس طرح مکمل نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو لٹکتی ہوئی چھوڑ دو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، نا مُسَدَّدٌ، نا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ فِي مَرَضِهِ فَاجْتَمَعْنَ فَقَالَ:" إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ فَإِنْ رَأَيْتُنَّ أَنْ تَأْذَنَّ لِي أَنْ أَكُونَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَعَلْتُنَّ" فَأَذِنَّ لَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَبَلَغَنِي أَنَّهُ سُئِلَ فَقِيلَ أِيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ:" عَائِشَةُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرضِ الموت میں عورتوں کو پیغام بھیجا، وہ ساری جمع ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب میں تمام کے پاس آنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اگر تم مجھے عائشہ کے پاس رہنے کی اجازت دے دو۔“ تو انہوں نے اجازت دے دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا: ”عائشہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14747]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا: ”عائشہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14747]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14747 in Urdu