🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3034. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان مکمل عدل کر سکو، خواہ تم کتنا ہی چاہو، پس تم کسی ایک کی طرف اس طرح مکمل نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو لٹکتی ہوئی چھوڑ دو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14748
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: ⦗٤٨٨⦘ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" عَائِشَةُ"، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ قَالَ:" أَبُوهَا"، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" عُمَرُ فَعَدَّ رِجَالًا" وَقَالَ غَيْرُهُ ثُمَّ عُمَرُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، وَقَدْ مَضَى فِي أَوَّلِ كِتَابِ النِّكَاحِ حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ قَالَ لِابْنَتِهِ حَفْصَةَ:" لَا يَغُرَّنَّكِ إِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ" يُرِيدُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ذات السلاسل لشکر کے ساتھ بھیجا، کہتے ہیں: میں واپس آیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ۔“ میں نے پوچھا: مردوں میں سے؟ فرمایا: ”اس کا باپ۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”عمر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کئی شخص شمار کیے اور دوسروں نے کہا: پھر عمر، یعنی «ثُمَّ عُمَرُ» کے الفاظ بیان کیے۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب انہوں نے اپنی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ”تجھے یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے کہ تیری ہمسائی بڑی خوبصورت ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ سے زیادہ محبوب ہے“، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارادہ کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14748]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14748 in Urdu