🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3034. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان مکمل عدل کر سکو، خواہ تم کتنا ہی چاہو، پس تم کسی ایک کی طرف اس طرح مکمل نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو لٹکتی ہوئی چھوڑ دو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّارَبِرْدِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلِيمِيُّ بِمَرْوَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ أنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ: وَأَنَا سَاكِتَةٌ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟" قَالَتْ: بَلَى قَالَ:" فَأَحِبِّي هَذِهِ" قَالَتْ: فَقَامَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ لَهَا: مَا نَرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ، فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولِي لَهُ: إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ: وَاللهِ لَا أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَأَرْسَلْنَ أَزْوَاجُ رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ، وَلَكِنِّي مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً، وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا مِنَ الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ وَتَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا عَدَا حِدَّةٍ فِيهَا تُوشِكُ الْفَيْئَةَ فِيهَا، قَالَتْ: فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا بِمَنْزِلَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا قَالَتْ: فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَتْ: ثُمَّ وَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ عَلَيَّ، وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا؟ قَالَتْ: فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ ⦗٤٨٩⦘ أَنْتَصِرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْ أَنْ أَعْتَبْتُهَا عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَبَسَّمَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يُقِمْ شَيْخُنَا هَذِهِ اللَّفْظَةَ وَلَعَلَّ الصَّوَابَ أَنْ أَثْخَنْتُهَا غَلَبَةً، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَهْزَاذَ عَنْ عَبْدَانَ.
محمد بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ازواجِ مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں لیٹے ہوئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دے دی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں ہم سے عدل کریں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں خاموش تھی، فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کیوں نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے محبت کر۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر کھڑی ہو گئیں اور واپس جا کر ان کو وہ بات بتائی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہی تھی، وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہنے لگیں: آپ نے تو ہماری جانب سے کچھ بھی نہ کیا، دوبارہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں عدل کا سوال کرتی ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ اب میں اس بارے میں کلام بھی نہ کروں گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ازواجِ مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا، یہ ان میں سے سب سے زیادہ میرے برابر تھیں لیکن زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر دین کے بارے میں اچھی عورت میں نے نہیں دیکھی؛ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والی، سچی بات کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، بہت زیادہ صدقہ کرنے والی اور نیکی کے کام میں اپنے آپ کو مصروف رکھنے والی، جن کے ذریعے اللہ رب العزت کا قرب حاصل کیا جائے، لیکن زبان کی تیز تھیں، غصہ جلد ختم ہوجاتا تھا۔ فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر ان کی چادر میں ساتھ لیٹے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے عدل کا سوال کرتی ہیں۔ پھر انہوں نے میرے خلاف زبان درازی کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیتے ہیں؟ فرماتی ہیں کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بات جاری رکھی تو میں نے پہچان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے انتقام کو ناپسند نہ کریں گے۔ کہتی ہیں: جب میں شروع ہوئی تو میں نے خوب ڈانٹ پلائی۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے اور فرمایا: ”ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی بیٹی ہے۔“ دوسری روایت میں ہے کہ میں اس پر جھپٹ پڑی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14749]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2442»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14749 in Urdu