السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3070. -- باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة
-- باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
حدیث نمبر: 14937
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَخْرَمِ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ:" لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَطَلَّقَ رُكَانَةُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهِيَ تَحْتَمِلُ وَاحِدَةً وَتَحْتَمِلُ الثَّلَاثَ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِيَّتِهِ وَأَحْلَفَهُ عَلَيْهَا، وَلَمْ نَعْلَمْهُ نَهَى أَنْ يُطَلِّقَ الْبَتَّةَ يُرِيدُ بِهَا ثَلَاثًا، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا.
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، تو اس عورت سے کسی دوسرے شخص نے نکاح کرنے کے بعد مجامعت سے پہلے طلاق دے دی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ دوسرا خاوند اس سے مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا ہے۔“
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی تو اس سے ایک یا تین طلاقوں کا احتمال ہو سکتا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نیت کے بارے میں سوال کیا اور قسم لی، اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاقوں سے منع کیا ہو، اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14937]
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی تو اس سے ایک یا تین طلاقوں کا احتمال ہو سکتا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نیت کے بارے میں سوال کیا اور قسم لی، اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاقوں سے منع کیا ہو، اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14937]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14937 in Urdu